صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 545 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 545

صحيح البخاري۔جلده ۵۴۵ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة أَبَدًا قَالَ فَأَرِنِيْهِ قَالَ فَأَرَاهُ إِيَّاهُ فَمَحَاهُ تو حضرت علی نے آپ کو وہ جگہ دکھائی اور نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹا دیئے۔جب فَلَمَّا دَخَلَ وَمَضَتِ الْأَيَّامُ أَتَوْا عَلِيًّا آپ مکہ میں داخل ہوئے اور وہ دن گزر گئے تو اہل مکہ حضرت علی کے پاس آئے اور کہنے لگے: فَقَالُوْا مُرْ صَاحِبَكَ فَلْيَرْتَحِلْ فَذَكَرَ اپنے ساتھی سے کہو، اب یہاں سے کوچ کر جائے۔ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں اور آپ نے وہاں سے کوچ کیا۔فَارْتَحَلَ۔اطرافه: ١٧٨١، ١٨٤٤، ٢٦٩٨، ٢٦٩٩، ٢٧٠٠، ٤٢٥١۔بَابِ ۲۰ : الْمُوَادَعَةُ مِنْ غَيْرِ وَقْتٍ غیر معین مدت کے لئے صلح کرانا وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ( خیبر کے یہودیوں سے یہ ) أُقِرُكُمْ عَلَى مَا أَقَرَّكُمْ اللهُ۔فرمانا کہ میں تمہیں اس وقت تک ٹھہراؤں گا جب تک کہ اللہ تمہیں (یہاں) ٹھہرائے۔تشریح: الْمُصَالَحَةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ اَوْ وَقْتٍ مَّعْلُوم : ان دو ابواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے متعلق دو مختلف واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ایک میں معاہدہ کی رو سے وقت کی پابندی کا ذکر ہے اور دوسرے واقعہ میں وقت غیر معین اور یہود کا خیبر میں قیام مشروط ہے۔پابندی معاہدہ کا انحصار در اصل رویہ کے اچھا ہونے پر ہے۔اس تعلق میں کتاب الحرث والمزارعة باب ۹ تا ۱، کتاب الشر و طباب۱۵،۱۴ بھی دیکھئے۔باب :۲۱ طَرْحُ جِيْفِ الْمُشْرِكِيْنَ فِي الْبَحْرِ وَلَا يُؤْخَذْ لَهُمْ فَمَنْ مشرکوں کی لاشیں کنوئیں میں پھینکوا دینا اور ان کی قیمت نہ لی جائے ٣١٨٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ :۳۱۸۵ عبدان بن عثمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي میرے باپ نے مجھے خبر دی۔انہوں نے شعبہ سے، إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرُو بْن مَيْمُونٍ عَنْ شعبہ نے ابو اسحاق سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون