صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 530 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 530

صحیح البخاری جلده ۵۳۰ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة فرمایا: تَكَلَّمُ لَا بَأْسَ ۔ پھر حضرت عمر نے ہر مزان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تو حضرت انس نے کہا کہ ابھی آپ اسے کہہ چکے ہیں کہ تَكَلَّمُ لَا بَأْسَ اور ان الفاظ سے آپ اسے امان دے چکے ہیں۔ چنانچہ حضرت زبیر نے بھی اس کی شہادت دی۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر مزان کو چھوڑ دیا اور وہ مسلمان ہو گئے اور ان کے لئے بیت المال سے وظیفہ جاری ہوا۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۳۰، ۳۳۱) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه۹۴، ۹۵) غرض ان حوالہ جات سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں میں ذمہ داری کا احساس یہاں تک قوی تھا کہ اگر دلالت معنوی یا قرینے سے بھی ذمہ داری کا مفہوم پیدا ہوتا وہ اسے ملحوظ رکھتے ۔ اس باب کے تحت الگ روایت درج نہیں کی گئی۔ کیونکہ یہ باب سابقہ باب ہی کے تسلسل میں ہے۔ بَاب ۱۲ : الْمُوَادَعَةُ وَالْمُصَالَحَةُ مَعَ الْمُشْرِكِيْنَ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ مشرکوں سے مال وغیرہ پر سمجھوتہ کر کے لڑائی ترک کرنا اور ان سے صلح کرنا وَإِثْمُ مَنْ لَّمْ يَفِ بِالْعَهْدِ وَقَوْلُهُ وَإِنْ اور اس شخص کا گناہ جو عہد پورا نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا اوراللہ کا جَنَحُوا لِلسَّلْمِ جَنَحُوا طَلَبُوا السَّلْمَ فرمانا : اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف فَاجْنَحْ لَهَا (الأنفال : ٦٢) الْآيَةَ۔ جھک۔ وہ جھکیں یعنی وہ صلح کرنا چاہیں۔ ۳۱۷۳ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرٌ :۳۱۷۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر نے جو هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مفضل کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا کہ یحی بن سعید انصاری) بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بشیر بن بیسار سے، حَثْمَةَ قَالَ انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بغیر نے حضرت سہل بن ابی حمہ سے روایت کی۔ وَمُحَتِّصَةُ بْنُ مَسْعُوْدِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى انہوں نے کہا: عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زیدہ خیبر کو گئے اور اہل خیبر نے ان دنوں صلح کر لی تھی وہ خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا فَأَتَى دونوں الگ ہو گئے۔ پھر محیصہ عبداللہ بن سہل کے پاس مُحَبِّصَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ آئے تو دیکھا کہ وہ مقتول ہیں اور خون میں تڑپ رہے يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ تھے۔ آخر انہیں دفن کیا۔ پھر وہ مدینہ میں آئے اور الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عبد الرحمن بن سہل اور مختصہ اور اور محیصہ اور خوبصہ جو دونوں مسعود سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةٌ وَحُوَيْصَةُ ابْنَا مَسْعُوْدٍ کے لیے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور