صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 529
صحیح البخاری جلده ۵۲۹ ۵۸- كتاب الجزية والموادعة الے ہیں جن سے یہ بتایا تشريح : إِذَا قَالُوا صَبَأَنَا وَلَمْ يُحْسِنُوا أَسْلَمْنَا : عنوانِ باب میں تین حوالے ؟ گیا ہے کہ مقاصد و مطالب کا تعین قرائن سے ہوتا ہے۔ صرف الفاظ کے ظاہر سے تمسک کر کے کوئی فیصلہ کرنا مناسب نہیں۔ دلالت لفظی بھی ہوتی ہے اور معنوی بھی۔ جیسے لفظ صبانا کے معنی ہیں مائل ہو گیا یا صابی ہو گیا۔ ابتداء صابی کا لفظ مسلمانوں کے لئے بولا جاتا تھا۔ پس اگر کوئی شخص صَبَأْنَا أَسْلَمْنَا کے معنوں میں استعمال کرے تو اس سے یہی سمجھا جائے گا کہ اس نے اسلام قبول کرنے کا اظہار اپنے محاورہ زبان کے مطابق کیا ہے۔ ایک جنگ میں حضرت خالد بن ولید نے اس لفظ سے اظہار اسلام تسلیم نہ کیا اور یہ ان کی غلطی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے ان کے فعل سے بیزاری کا اعلان فرمایا۔ (دیکھئے کتاب المغازی باب ۵۹ بعث النبي الله خالد بن الوليد الى بني جزيمة ) دوسرا حوالہ عبدالرزاق نے نے نقل کیا ہے ۔ مترس فارسی لفظ ہے۔ بمعنی مت ڈر۔ ابو وائل سے مروی ہے کہ ہم ایران میں ایک شاہی محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پروانہ ہمیں ملاج روانہ ہمیں ملا جس میں یہ ہدایت تھی یہ ہدایت تھی : إِذَا حَاصَرْتُمْ قَصْرًا فَلَا تَقُولُوا انْزِلُ عَلَى حُكْمِ اللهِ فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا حُكْمُ اللهِ وَلَكِنِ انْزِلُوهُمْ عَلَى حُكْمِكُمْ ثُمَّ اقْضُوا فِيهِمْ وَإِذَا لَقِيَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَقَالَ لَا تَخُفْ فَقَدْ اَمَّنَهُ وَإِذَا قَالَ مَتْرَس فَقَدْ أُمَّنَهُ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ الْأَلْسِنَةَ كُلَّهَا ۔ امام مسلم نے بھی اس روایت کا پہلا حصہ مرفوع نقل کیا ہے ہے ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۳۰) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کا خلاصہ یہ ہے کہ محاصرہ ختم کرنے کے لئے یہ نہ کہا جائے: اللہ کے فیصلے پر اتر و کیونکہ تمہیں علم نہیں، اللہ کا فیصلہ کیا ہو۔ اپنے فیصلے پر قلعہ گیر فوج کو اُتار کر فیصلہ کیا کرو اور اگر کوئی کسی سے کہے مترس یعنی تو نہ ڈر۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اس کو پناہ دے دی۔ تیسرا حوالہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ نے الفاظ تَكَلَّمُ وَلَا بَأْسَ کہہ کر ہر مزان کا خوف دور کیا اور تسلی دی کہ وہ امن میں ہے۔ یہ الفاظ بھی پناہ دینے کے معنوں ہی میں ہیں۔ مشار الیہ واقعہ ابن ابی شیبہ کے سے مروی ہے اور یعقوب بن سفیان نے اپنی تاریخ میں بھی صحیح سند سے نقل کیا ہے ہے کہ کہ حضرت حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ ہم نے شہر تستر کا محاصرہ کیا اور ہرمزان نے حضرت عمرؓ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے۔ جب اسے حضرت عمرؓ کے پاس لائے تو بوجہ خوف بات نہ کر سکا۔ حضرت عمر نے اسے تَكَلَّمُ وَلَا بَأْسَ کہہ کر تسلی دی۔ یہ واقعہ سنن سعید بن منصور میں زیادہ تفصیل سے مروی ہے کہ هرمزان کو حضرت انس کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے حضرت عمر کے پاس مدینہ بھیجا اور جب انہوں نے دیکھا کہ ہرمزان خاموش ہیں تو آپ نے انہیں بات کرنے کے لئے کہا: ہرمزان بولے : أَكَلَامُ حَيْ أَمْ كَلَامُ مَيِّتٍ ؟ آپ نے (مصنف عبد الرزاق، كتاب الجهاد، باب دعاء العدو، روایت نمبر ۹۴۲۹، جزء ۵ صفحه ۲۱۹) (مسلم، كتاب الجهاد والسير، باب تأمير الإمام الأمراء على البعوث) (مصنف ابن أبي شيبة، كتاب السير، باب في الأمان ما هو وكيف هو، جزء ۶ صفحه ۵۱) (سنن سعید بن منصور ، كتاب الجهاد، باب قتل الأسارى والنهي عن المثلة، جزء ۶ صفحه ۳۳۸)