صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 531
صحیح البخاری جلده ۵۳۱ ۵۸ - كتاب الجزية والموادعة إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عبد الرحمن بولنے لگے تو آپ نے فرمایا: بڑے کو بولنے فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ دو اور وہ ان لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ چنانچہ كَبِّرْ كَبِّرْ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ فَسَكَتَ وہ خاموش ہو گئے اور دوسرے دونوں نے گفتگو شروع فَتَكَلَّمَا فَقَالَ أَتَحْلِفُوْنَ وَتَسْتَحِقُوْنَ کی۔ آپ نے فرمایا کی تم تم ھاؤ گے؟ اور اس صورت میں اپنے قاتل سے دیت لینے کے حق دار ہوگے۔ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ قَالُوْا وَكَيْفَ قَاتِلَكُمْ کا لفظ حضور نے فرمایا یا صَاحِبَكُمْ فرمایا۔ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ قَالَ انہوں نے عرض کیا: ہم کیسے قسم کھائیں حالانکہ ہم موجود فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِيْنَ فَقَالُوا نہ تھے اور ہم نے دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَعَقَلَهُ اپنے پچاس آدمیوں سے تمہیں دلوا کر تمہارے سامنے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: ہم کافر لوگوں کی النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ۔ اطرافه: ۲۷۰۲، 61٤٣، 6898، ٧١٩٢۔ قسمیں کیسے لیں؟ آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔ تشريح : الْمُوَادَعَةُ وَالْمُصَالَحَةُ مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ: وَادَعَ وَدَعَ سے باب مفاعلہ ہے بمعنی تَرَكَ يُتَارِكُ مَتَارَكَة یعنی اہل حرب سے لڑائی ترک کر دینا۔ مصالحت میں ضروری نہیں کہ فریقین برسر پیکار ہی ہوں۔ صلح بغیر لڑائی کے بھی ہو سکتی ۔ ہے۔ جیسا کہ واقعہ حدیبیہ میں ہوا۔ یہ فرق ملحوظ رکھ کر دونوں لفظ اختیار کئے گئے ہیں۔ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ سے مراد یہ ہے کہ مال اور حق چھوڑ کر بھی مصالحت کرنی پڑے تو صلح جنگ پر مقدم کی جائے۔ بعض فقہاء نے مُوَادَعَة وَمُصَالَحَة میں یہ شرط رکھی ہے کہ اگر مسلمان مقابلے سے عاجز ہوں اور یہ ڈر ہو کہ لڑائی سے وہ بیخ و بن سے اکھڑ جائیں گے تو ایسی خطرناک حالت میں ان کے لئے دشمن سے وقتی صلح کر لینا جائز ہے ورنہ نہیں۔ کیونکہ موت فی سبیل اللہ تو مسلم کے لئے شہادت ہے اور بغیر خطرہ ہتھیار ڈالنا ذلت، جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ (فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۳۲) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۹۷ ) امام بخاری اس رائے سے متفق نہیں ۔ کیونکہ باب کے تحت جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں انتہائی خطرے کی صورت نہ تھی بلکہ یہود مغلوب تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول مسلم کی خود دیت دے کر مصالحت کرائی اور لڑائی ہوتے ہوتے رُک گئی۔ شہادت کے لئے دو گواہ ضروری تھے جو عینی شہادت دیتے کہ حضرت عبداللہ بن ہے ہادت دیتے کہ حضرت عبداللہ بن سہل کو فلاں یہودی نے قتل کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عادلانہ اور صلح و امن پسندانہ رویہ اور صحابہ کرام کا تقوی اور نمونہ اطاعت شعاری اس واقعہ سے ظاہر ہے۔