صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 528
صحيح البخاری جلده ۵۲۸ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة وَلَا عَدْلٌ وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيْهِ اس سے نہ کوئی فریضہ عمل قبول کیا جائے گا نہ کوئی فَعَلَيْهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِيْنَ معاوضہ اور جس نے اپنے موالی کے سوا کسی اور کو مولی وَاحِدَةٌ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ بنایا تو اس پر بھی اسی طرح لعنت ہوگی اور مسلمانوں کی مِثْلُ ذَلِكَ۔ذمہ داری ایک ہی سی ہے جس نے کسی مسلمان کا ذمہ تو ڑا تو اس پر بھی ویسی ہی لعنت ہوگی۔اطرافه: ۱۱۱، ۱۸۷۰، ۳۰۷ ،۳۱۷۹، 6755، 6903، 6915، 7300۔تشریح: يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمُ۔۔۔: أَدْنَاهُمُ میں ہر مسلمان شخص ادنی و اعلی ،غریب و امیر ، غلام و آقا شامل ہیں۔مرد ہو یا عورت ان کی پناہ قابل اعتبار و نفاذ ہوگی۔محض اس وجہ سے نظر انداز نہ کی جائے گی کہ پناہ دینے والا معمولی حیثیت کا ہے یا مرد یا عورت ہے۔جمہور کے نزدیک غلام خواہ لڑائی میں شامل ہو یا نہ ہو، پناہ دے سکتا ہے۔بچے کی امان رشد و بلوغت سے مشروط ہے۔مجنون کی پناہ جائز نہیں۔امام اوزاعی کہتے ہیں کہ اگر ذمی مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہو اور وہ کسی کو پناہ دے تو امام اگر چاہے تو اسے نافذ کر دے ورنہ اس کو وہاں پہنچانے کا انتظام کرے جہاں اس کے لئے امن ہو۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۲۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۹۳) بَاب ۱۱ : إِذَا قَالُوْا صَبَأْنَا وَلَمْ يُحْسِنُوْا أَسْلَمْنَا اگر ( حربی کا فر) یہ کہیں کہ ہم نے دین تبدیل کر لیا ہے اور اچھی طرح یہ نہ کہیں کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَجَعَلَ خَالِدٌ يَقْتُلُ اور حضرت ابن عمرؓ نے کہا: خالد نے ایک جنگ میں فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْرَأُ لڑنے والوں کو ) قتل کرنا شروع کر دیا۔(حالانکہ وہ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ۔وَقَالَ عُمَرُ إِذَا کہتے جاتے تھے ہم نے دین بدل لیا۔نبی ﷺ نے جب یہ سنا تو فرمایا: اے اللہ ! میں تیرے حضور خالد کے قَالَ مَتْرَضٌ فَقَدْ آمَنَهُ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ فعل سے بے زاری کا اظہار کرتا ہوں۔اور حضرت عمر الْأَلْسِنَةَ كُلَّهَا وَقَالَ تَكَلَّمْ لَا بَأْسَ۔نے کہا: اگر کوئی (مسلمان کسی کافر سے فارسی میں) کہے: مترس۔(ڈرو نہیں ) تو اس نے اس کو امان دے دی۔کیونکہ اللہ تو تمام زبانیں جانتا ہے۔اور (حضرت عمر نے ہرمزان سے ) کہا : بات کرو، ڈرو نہیں۔