صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 527
صحيح البخارى جلده ۵۲۷ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة بْنُ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله میں نے پناہ دی ہے۔یعنی ہیرہ کے فلاں بیٹے کو۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتم ھانی ! جس کو أُمَّ هَانِي قَالَتْ أُمُّ هَانِي وَذَلِكَ ضُحَى۔تم نے پناہ دی، ہم نے بھی اس کو پناہ دی۔اتم ھانی کہتی تھیں کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔اطرافه ۲۸۰، ٣٥٧، ٦١٥٨۔تشریح: أَمَانُ النِّسَاءِ وَجِوَارُهُنَّ : فقہاء کا اتفاق ہے کہ دشمن کو پناہ دینے نہ دینے کا تعلق امام سے ہے۔حضرت ام ہانی نے جسے پناہ دی تھی، آخر اس کا فیصلہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے فرمایا تھا۔قد أَجَرْنَا مَنْ أَجَرُتِ يَا أُمَّ هَانِی۔ایک مسلمان فرد بھی جو کسی کو پناہ دیتا ہے اس کی امان بھی قابل اعتبار ہے۔بشرطیکہ امام منظور فرمائے اور اس پناہ دینے میں مرد و عورت کی تفریق نہیں۔ہر مسلم فرد کی ذمہ داری قابل احترام ہے۔سحنون اور عبدالمالک بن ماجشون کے نزدیک اس کا آخری فیصلہ امام کی رائے پر ہے إِنْ أَجَازَهُ جَازَ وَإِنْ رَدَّهُ رُدَّ۔( فتح الباری جزء ۱ صفحه ۳۲۸) بَاب ۱۰ : ذِمَّةُ الْمُسْلِمِيْنَ وَجِوَارُهُمْ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ مسلمانوں کی ذمہ داری اور امان ایک ہی سی ہے ان میں سے ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے ۳۱۷۲ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۳۱۷۲ محمد بن سلام) نے مجھ سے بیان کیا کہ وَكِيعٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ وکیع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے التَّيْمِي عَنْ أَبِيْهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيٌّ ابراہیم تیمی سے، ابراہیم نے اپنے باپ سے روایت فَقَالَ مَا عِنْدَنَا كِتَابٌ نَقْرَؤُهُ إِلَّا کی کہ انہوں نے کہا: حضرت علیؓ نے ہمیں مخاطب کیا كِتَابَ اللهِ وَمَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ اور کہا: ہمارے پاس اور کوئی کتاب نہیں جسے پڑھتے ہوں۔مگر اللہ کی کتاب ہی ہے اور وہ جو اس ورق میں فَقَالَ فِيْهَا الْجِرَاحَاتُ وَأَسْنَانُ الْإِبِل ہے۔انہوں نے کہا: اس میں زخموں کے قصاص ہیں وَالْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى كَذَا اور اونٹوں کے نصاب سے متعلق احکام اور یہ بھی کہ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيْهَا حَدَثًا أَوْ آوَى فِيْهَا مدينه کی زمین جبل عیر سے فلاں مقام تک حرم ہے، مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ جس نے اس حرم میں کوئی بدعت کی یا کسی بدعتی کو پناہ وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ دی اس پر اللہ اور ملائکہ اور سب لوگوں کی لعنت ہوگی۔