صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 526
صحيح البخاری جلده ۵۲۶ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة شریح : دُعَاءُ الْإِمَامِ عَلَى مَنْ نَكَتَ عَهْدًا : مشار الیہ غداری کا تعلق دو واقعات سے ہے جو ہ ھ میں جنگ احد کے بعد ہوئے۔پہلا واقعہ معضل وقارہ کا ہے جن کے بعض لوگ اسلام قبول کرنے کے بہانہ سے مدینہ میں آئے اور ان کی درخواست پر دس قارئین حضرت عاصم بن ثابت کی سرکردگی میں بغرض تبلیغ و تعلیم بھیجے گئے۔عضل وقارۃ کے آدمیوں نے بنائیان کو خفیہ اطلاع بھیجی اور انہوں نے بمقام رجیع انہیں گھیر کر قتل کر دیا۔دوسرا واقعہ غدر بئر معونہ کا ہے۔ان غدار قبائل کے خلاف دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے جلد ہی انہیں قحط سالی وغیرہ مصائب میں گرفتار بلاء کر دیا۔واقعہ مندرجہ زیر باب کی تشریح کے لئے دیکھئے کتاب الجہاد باب ۹، کتاب المغازی باب۱۰، باب ۲۹۔باب ۹ : أَمَانُ النِّسَاءِ وَجِوَارُهُنَّ عورتوں کا پناہ دینا اور ان کی حمایت کرنا ۳۱۷۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۳۱۷۱ عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمر بن عبید اللہ کے عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَی غلام ابونضر سے روایت کی کہ ابومرہ نے جو حضرت أُمِّ هَانِي ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام تھے، ان کو بتایا کہ سَمِعَ أُمَّهَانِي ابْنَةَ أَبِي طَالِبٍ تَقُوْلُ انہوں نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا۔وہ کہتی تھیں کہ جس سال مکہ فتح کیا گیا، میں رسول اللہ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ نہا رہے ہیں اور فاطمہ آپ کی بیٹی آپ کے سامنے وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ پردہ کئے ہوئے تھیں۔میں نے آپ کو السلام علیکم کہا: فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِي بِنْتُ آپ نے پوچھا۔یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں ام ہانی أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِي فَلَمَّا ابو طالب کی بیٹی۔آپ نے فرمایا: مرحبا اتم ہانی۔فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ جب آپ غسل سے فارغ ہوئے، کھڑے ہو کر آپ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں۔آپ نے ایک ہی کپڑا لپیٹ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي رکھا تھا۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میری ماں کا بیٹا علی عَلِيٌّ أَنَّهُ قَاتِلْ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ فُلَانُ کہتا ہے کہ وہ اس شخص کو ضرور مار ڈالے گا جس کو