صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 511
صحيح البخارى جلده ۵۱۱ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة فَلَمْ يُنَدِّمْكَ وَلَمْ يُخْزِكَ وَلَكِنِّي کے ساتھ شریک رکھ چکا ہے اور اس نے نہ تمہیں شَهِدْتُ الْقِتَالَ مَعَ رَسُولِ اللهِ شرمندہ کیا اور نہ تمہیں رسوا کیا۔البتہ میں بھی رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا لَمْ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی میں موجود تھا۔آپ کی عادت تھی کہ اگر دن کے شروع میں آپ نہ لڑتے يُقَاتِلْ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ انْتَظَرَ حَتَّى تَهُبَّ الْأَرْوَاحُ وَتَحْضُرَ الصَّلَوَاتُ۔تو اس وقت تک انتظار کرتے کہ ہوائیں چلنے لگیں اور نمازوں کا وقت ہو جائے۔تشریح: الْجِزْيَةُ وَالْمُوَادَعَةُ مَعَ أَهْلِ الذِمَّةِ وَالْحَرْبِ : جزیرہ کی اصطلاح کا مفہوم وہی ہے جو بدل نقدی کا (یعنی جنگ کے بدلہ میں نقد رقم ) حکومت عثمانیہ اسلامی حکومت تھی اور ہر مسلمان پر جہاد فرض تھا۔لیکن قوانین حکومت میں گنجائش تھی کہ جو جنگ میں کسی معقول وجہ سے شامل نہ ہو سکے تو بدل نقدی دے کر اجازت لے سکتا تھا۔اگر چہ غیر مسلموں پر جہاد فرض نہیں لیکن ملک کی حفاظت ان پر بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح مسلمان باشندگان ملک پر۔اس لئے اسلام نے ان پر ایک ٹیکس مقرر کر کے ان کو فریضہ جہاد کی پابندی سے آزاد رکھا ہے۔اس معاوضے کا نام جزیہ یعنی بدل نقدی ہے۔مخالفین اسلام نے غلط مفہوم بیان کر کے اس اصطلاح کی نسبت بہت بڑی غلط فہمی پیدا کر دی ہے۔بحالیکہ مذکورہ بالا ٹیکس بالکل انصاف پر مبنی ہے اور جزیہ مذہبی آزادی کے اصول کو ملحوظ رکھ کر جاری کیا گیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) دین کے معاملہ میں جبر و اکراہ نہیں۔جو مذہبی فرائض ایک مسلم پر عائد ہوتے ہیں، انہیں غیر مسلم پر ٹھونستا اسلام میں جائز نہیں۔لیکن اگر غیر مسلم نیک نیتی سے دفاع وطن کے جہاد میں شریک ہونا چاہے تو اس کے لیے کوئی روک نہیں۔اسلامی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ غیر مسلم دفاع وطن میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوئے اور پھر جزیہ ان سے نہیں لیا گیا۔ان کے لئے اس بارہ میں کوئی روک نہ تھی ، سوائے اس شرط کے کہ وہ نیک نیت اور اصل ہوں اور یہی شرط ایک مسلم مجاہد کے لئے بھی ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں لفظ الْجِزْيَة کے ساتھ لفظ الْمُوَادَعَة شامل کیا ہے۔مُوَادَعَة کے معنی لڑائی ترک کر کے صلح و صفائی کے ساتھ رہنے کے ہیں اور یہ مصالحت ذمیوں کے ساتھ بھی ہوتی ہے اور حربیوں کے ساتھ بھی۔ذمی اور حربی دو اسلامی اصطلاحیں ہیں۔اول الذکر کا اطلاق اس غیر مسلم قوم پر ہوتا ہے جو دارالاسلام میں رہے اور جس کی حفاظت و سلامتی کی ذمہ داری اسلامی حکومت پر ہو۔اس مصالحت و ذمہ داری کے عوض میں جو ٹیکس ان سے طے پائے وہ جزیہ کہلاتا ہے اور یہ ٹیکس اقتصادی حالات کے مطابق کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔جیسا کہ عنوانِ باب ہی میں اس امر کی صراحت بحوالہ مجاہد کی گئی ہے کہ شام کے ملک میں کشائش و دولت تھی۔اس لئے وہاں اقتصادی حالت اچھی ہونے کی وجہ سے چار دینار فی کس جز یہ تھا اور یمن میں صرف ایک دینار سالانہ یعنی تقریباً دس درہم۔یہ ٹیکس اس شخص سے لیا جاتا تھا جو کمانے کے قابل ہو اور اس سے ایک خاص طبقہ مستی کیا گیا ہے جس کی تفصیل آئندہ آئے گی۔