صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 505
صحيح البخاری جلده ۵۷ - کتاب فرض الخمس الْقُدُوْرُ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللهِ اُبل رہی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْفِنُوا الْقُدُوْرَ نے آواز دی: ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت فَلَا تَطْعَمُوا مِنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ شَيْئًا۔میں سے کچھ نہ کھاؤ۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفی) قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقُلْنَا إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ کہتے تھے: ہم کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهَا لَمْ صرف اس لئے منع فرمایا ہے کہ ان کا پانچواں حصہ تُخَمَّسْ قَالَ وَقَالَ آخَرُونَ حَرَّمَهَا نہیں نکالا گیا تھا۔(شیبانی نے ) کہا: اور بعض نے کہا: أَلْبَيَّةَ۔وَسَأَلْتُ سَعِيْدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ آپ نے اس کو قطعا حرام قرار دیا ہے۔سعید بن جبیر حَرَّمَهَا أَلْبَيَّةَ۔سے میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ نے ان کو اطرافه: ٤٢٢٠، ٤٢٢٢، ٤٢٢٤ ٠٥٥٢٦ تشریح: قطعی حرام قرار دیا تھا۔مَا يُصِيبُ مِنَ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْحَرْبِ : باب کی تینوں روایتوں سے مسئلہ معنونہ کا جواز ظاہر ہے کہ غازی حلال اشیاء سے بوقت ضرورت میدانِ جنگ میں اپنی بھوک پیاس کا ازالہ کر سکتا ہے۔اس کے لئے جائز ہے کہ خوردنی اشیاء ملنے پر انہیں استعمال میں لائے۔000