صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 506 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 506

صحيح البخاری جلده ۵۰۶ دالله الحالي ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة ٥- كِتَابُ الجِزْيَةِ وَالمُوَادَعَةِ باب ۱ : الْجِزْيَةُ وَالْمُوَادَعَةُ مَعَ أَهْلِ الذَّمَّةِ وَالْحَرْبِ جزیہ وصول کرنا نیز ذمیوں اور لڑنے والوں کے ساتھ ایک مدت تک لڑائی نہ کرنے کا بیان وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: قَاتِلُوا الَّذِيْنَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اہل کتاب میں سے جو اللہ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ ان باتوں وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام وَلَا يَدِينُونَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ قرار دی ہیں اور نہ سچائی کی روش اختیار کرتے ہیں، أوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ ان سے اس وقت تک لڑتے رہو کہ وہ مطبع ہوکر عَنْ يَّدِ وَهُمْ صَغِرُونَ (التوبة: ٢٩) بقدر استطاعت جزیہ دیں۔یعنی بے بس ہو کر۔يَعْنِي۔أَخِلَّاءُ وَمَا جَاءَ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ اور یہود، نصاری، پارسی اور ہر اجنبی ملک سے جزیہ مِنَ الْيَهُوْدِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوْسِ لینے کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں۔اور ابن عیینہ وَالْعَجَمِ۔وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ نے ابن ابی نجیح سے نقل کیا ہے ( کہ وہ کہتے تھے ) میں أَبِي نَجِيْحٍ قُلْتُ لِمُجَاهِدٍ مَا شَأْنُ أَهْلِ نے مجاہد سے پوچھا: اہل شام کی کیا خصوصیت ہے کہ الشَّامِ عَلَيْهِمْ أَرْبَعَةُ دَنَانِيْرَ وَأَهْلُ ان پر چار دینار جزیہ ہے اور اہل یمن پر ایک دینار؟ الْيَمَن عَلَيْهِمْ دِينَارٌ قَالَ جُعِلَ ذَلِكَ انہوں نے کہا: بوجہ آسودگی کے یہ جزیہ مقرر کیا گیا تھا۔مِنْ قِبَلِ الْيَسَارِ۔٣١٥٦: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۳۱۵۶ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرًا نے کہا کہ سفیان بن عیبیہ ) نے ہمیں بتایا، کہا: میں