صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 479
صحيح البخاری جلده تشریح: ۵۷- کتاب فرض الخمس بَرَكَةُ الْغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَيّتًا : اس باب سے مجاہد فی سبیل اللہ کے اموال میں برکت کا نمونہ دکھانا مقصود ہے کہ اس کی نیت خالصا اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہوتی ہے۔مگر وہ دنیا کی برکت سے بھی بہت بڑا حصہ پاتا ہے۔روایت مندرجہ بالا کامل استدلال اس کے یہ الفاظ ہیں: يَا بُنَيَّ إِنْ عَجَزْتَ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلَايَ۔۔۔مَنْ مَّوْلَاكَ قَالَ الله۔جو شخص اپنے مولا ( آقا) کے لئے غایت درجہ اخلاص رکھے اور اس کی محبت میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا، اس کا مولا اس کو ہر قسم کی برکت سے نوازے گا۔علامہ ابن حجر نے ابن سعد کے حوالہ سے حضرت زبیر کے ترکہ کا اندازہ چار کروڑ درہم اور واقدی کے حوالے سے پانچ کروڑ دس لاکھ درہم نقل کیا ہے۔امام بخاری کی روایت کے مطابق پانچ کروڑ دو لاکھ درہم اندازہ ہے۔ابن سعد کی روایت سفیان بن عیینہ سے مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۸۰) اندازوں میں کمی بیشی ہوتی ہے۔لیکن ان روایات سے ظاہر ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے مال میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے غیر معمولی برکت ہوئی۔اسی طرح حضرت انس رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ کرام کے اموال میں بھی۔يَوْمُ الْجَمَلِ : واقعہ جمیل سے مراد وہ جنگ ہے جو حضرت عائشہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان حضرت عثمان کی شہادت کے واقعہ پر ہوئی تھی۔باب ١٤ إِذَا بَعَثَ الْإِمَامُ رَسُوْلًا فِي حَاجَةٍ أَوْ أَمَرَهُ بِالْمُقَامِ هَلْ يُسْهَمُ لَهُ اگر امام کسی غرض کے لئے کسی کو اینچی بنا کر بھیجے یا اسے ٹھہرنے کا حکم دے تو کیا اس کا حصہ ( مال غنیمت ) میں نکالا جائے؟ ۳۱۳۰ : حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا ۳۱۳۰ موسیٰ ( بن اسماعیل ) نے ہم سے بیان کیا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَوْهَبِ کہ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔عثمان بن موہب نے ہم عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما إِنَّمَا تَغَيَّبَ عُثْمَانُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عثمان تو بدر تَحْتَهُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے صرف اس لئے غیر حاضر ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو ان کے نکاح میں تھیں وہ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيْضَةً فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ يار تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ أَجْرَ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب اور حصہ غنیمت ملے گا جتنا اس رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ۔شخص کو جو جنگ بدر میں شریک ہوا۔اطرافه ٣٦٩٨، ۳۷۰٤، ٤٠٦٦، ٤٥۱۳، ٤٥۱٤، ٤٦٥۰، ٤٦٥١، ٧٠٩٥۔