صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 473 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 473

صحيح البخاری جلده ۵۷- کتاب فرض الخمس لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيْبَاجِ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ کے بٹن لگے ہوئے تھے بطور تحفہ دی گئیں تو آپ نے فَقَسَمَهَا فِي نَاسِ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگوں میں وہ تقسیم کر دیں اور مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلِ فَجَاءَ ان میں سے ایک قبا حضرت مخرمہ بن نوفل کے لئے وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَامَ الگ کر دی۔پھر حضرت مخرمہ آئے اور ان کے ساتھ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ادْعُهُ لِي فَسَمِعَ ان کا بیٹے مسور بن مخرمہ تھے۔وہ دروازے پر کھڑے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ ہوئے اور بیٹے سے) کہا: (اندر جاکر ) آپ کو میرے فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ لئے بلا لاؤ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سن لی بِأَزْرَارِهِ فَقَالَ يَا أَبَا الْمِسْوَر خَبَأْتُ اور وہ قباءلی اور اسے لے کر ان سے ملے اور ان بٹنوں هَذَا لَكَ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا کو ان کے سامنے نمایاں کر کے ان کا استقبال کیا اور لَكَ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَيْءٌ وَرَوَاهُ فرمايا: البومسور! یہ میں نے آپ کے لئے چھپا رکھی تھی۔دو بار یہ بات فرمائی اور حضرت مخرمہ کے مزاج میں ذرا تیزی تھی۔(اسماعیل) بن علیہ نے یہی بات ایوب سے روایت کی کہ حاتم بن وردان نے کہا: ایوب نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے۔انہوں نے مسور سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئیں۔لیث بن سعد ) نے بھی (ایوب کی طرح ) ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ہے۔ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَن ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ۔تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَة۔اطرافه ٢٥٩٩، ۲٦٥٧، ٥۸۰۰ ٥٨٦٢ ٦١٣٢۔تشریح: قِسْمَةُ الإِمَامِ مَا يَقْدَمُ عَلَيْهِ وَيَخْبَأُ لِمَنْ لَّمْ يَحْضُرُهُ: مجادل سبیل اللہ کوچاہیے کہ وہ اپنی نیت بہر حال خالص رکھے۔ہاں یہ امام کا فرض ہے کہ مجاہدین کا خیال رکھے خواہ حاضر ہوں یا غیر حاضر۔