صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 464
صحیح البخاری جلده ۶۴۴ ۵۷ - کتاب فرض الخمس سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ فرماتے يَقُوْلُ إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُوْنَ فِي مَالِ تھے کہ کچھ لوگ اللہ کے مال میں بلا ضرورت دخل اللَّهِ بِغَيْرِ حَقٍ فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ دیتے اور بے جا خرچ کرتے ہیں۔ انہیں قیامت کے : روز آگ کی سزا ہو گی ۔ کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے تشريح : فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ: عنوان باب میں جس آیت کا حوال دیا گیا ہے کہ خمس کی تقسیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر منحصر ہے۔ آپ کی حیثیت ایک قاسم کی ہے جس سے متعلق آپ کو اختیار دیا گیا ہے کہ جس طرح پسند کریں خرچ کر سکتے ہیں۔ اپنی ذاتی ضرورت کے لئے بھی اور دوسری ضرورتوں کے لئے بھی اور اسی اعتبار سے آپ قاسم کے لقب سے ملقب ہوئے۔ اکثر مفسرین نے لِلرَّسُولِ میں لام تخصیص ملک کے معنوں میں سمجھا ہے کہ شمس آپ کی ذاتی ضرورتوں کے لئے مخصوص ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۲۶۱) مگر یہی لام لِلہ میں ہے اور اللہ کی ذاتی ضرورت سوا اس کے کوئی نہیں کہ خمس اس کے بندگان کے لئے خرچ ہو اور رسول کی ذاتی ضروریات کے لئے بھی اور اسی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل فرمایا۔ اس لئے بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں وہ مفہوم لیا ہے جو امام بخاری نے عنوانِ باب میں بیان کیا ہے اور پانچ روایتیں نقل کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب بطور قاسم نمایاں کیا ہے جو اس حصہ اموال کی تقسیم میں واضح ہو سکتا ہے جن میں آپ کو اختیار دیا گیا ہو کہ جس طرح چاہیں بندگانِ خدا اور اپنے لئے خرچ کریں اور آپ نے اپنی مرضی اور اپنے عمل سے بتا دیا کہ غیروں کی ضرورت اپنی ذاتی ضرورت پر مقدم ہونی چاہیے۔ غنیمت کے ٤/٥ حصہ کی تقسیم کے تو آپ حکماً پا بند تھے اور یہ حصہ مجاہدین کا حصہ تھا جو انہیں بہر حال ملنا تھا۔ مگر قاسم کی شان اسی وقت نمایاں ہو سکتی ہے جب تقسیم آپ کی مرضی پر چھوڑی گئی ہو۔ فرمایا: میرے دینے سے کسی پر احسان نہیں ہوتا ۔ مَا أُعْطِيكُمْ وَلَا أَمْنَعُكُمُ إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ أَضَعُ حَيْثُ أُمِرْتُ ۔ یعنی نہ میں تم کو دیتا ہوں اور نہ تم سے کچھ روکتا ہوں۔ میں تو بانٹنے والا ہوں ۔ جس کے لئے حکم ہوتا ہے اس کو دیتا ہوں ۔ آپ نے خمس کی تقسیم میں اللہ تعالیٰ کے محتاج بندوں کو مقدم فرمایا اور اپنے آپ کو پیچھے رکھا۔ کیونکہ آیت مذکورہ میں اول اللہ کا ذکر ہے اور پھر رسول کا۔ زیر باب پانچ روایتیں مذکور ہیں۔ پہلی روایت متعد د سندوں سے نقل کر کے الفاظ أَرَادَ أَنْ يُسَمِّيَهُ الْقَاسِم کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھنا چاہا یا رکھا تو انصار نے اعتراض کیا جس پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے کو آیا۔ روایت نمبر ۳۱۱۶ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے دین کی باتیں سمجھنے میں انشراح صدر عطا فرمائے ۔ امام موصوف نے اس سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ آیت مذکورہ بالا کا مفہوم جو اوپر بیان کیا گیا ہے، اس