صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 465
صحيح البخاری جلده ۴۶۵ ۵۷ - کتاب فرض الخمس میں انہیں انشراح صدر ہے۔حدیث مَنْ يُرِدِ اللهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقَهُ فِي الدِّينِ کی تشریح کے لئے کتاب العلم، باب ۱۳ على الله دیکھئے۔نیز دیکھئے کتاب الاعتصام، باب قول النبي لا لا لا لا لا تزال طائفة من أمتى ظاهرين على الحق - آخری روایت سے بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس سے بالا ہے کہ تقسیم اموال میں ایسا طریق اختیار کریں جو علم و بصیرت پر مبنی نہ ہو۔بَاب : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحِلَّتْ لَكُمُ الْغَنَائِمُ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا غنیمتیں تمہارے لئے جائز کی گئی ہیں وَقَالَ الله عَزَّ وَجَلَّ: وَعَدَكُمُ اللهُ اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے اللہ نے تم سے کثیر مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا (الفتح :(۲۱) اموال غنیمت کا وعدہ کیا ہے جو تم حاصل کرو گے۔اور الآيَةَ وَهِيَ لِلْعَامَّةِ حَتَّى يُبَيِّنَهُ یہ سب لوگوں کا حق تھیں۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا مصرف بیان فرما دیا الرَّسُوْلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔کہ کون کون ان کا مستحق ہے۔) ۳۱۱۹ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدٌ :۳۱۱۹ مرد نے ہم سے بیان کیا کہ خالد نے ہمیں حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عُرْوَةَ بتایا (کہا) حصین نے ہم سے بیان کیا کہ عامر (شعبی) الْبَارِقِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ النبي سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عروہ بارقی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْخَيْلُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مَعْقُوْدٌ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ وَالْأَجْرُ مروی ہے۔آپ نے فرمایا: گھوڑوں کی پیشانیوں پر خیر و برکت کی گرہ بندھی ہوئی ہے۔روز قیامت تک وَالْمَغْنَمُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔اطرافه: ٢٨٥٠، ٢٨٥٢، ٣٦٤٣ اجر بھی ملتا رہے گا اور غنیمت بھی حاصل ہوگی۔۳۱۲۰ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۱۲۰ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَج ہمیں خبر دی۔(کہا) ابوالزناد نے ہمیں بتایا کہ اعرج عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا