صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 444
صحيح البخاری جلده ۴۴۴ ۵۷ - کتاب فرض الخمس ذَلِكَ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا تم مجھ سے اس کے علاوہ فیصلہ طلب کرتے ہو؟ اللہ کی إِلَيَّ فَإِنِّي أَكْفِيْكُمَاهَا ۔ قسم! جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہے میں اس کے سوا ان کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم دونوں ان کے انتظام سے عاجز ہو تو وہ میرے سپرد کر دو۔ میں ان کا انتظام تمہارے لئے کر دوں گا۔ اطرافه ٢٩٠٤ ، ٤٠٣٣، ٤٨٨٥، ٥٣٥٧، ٥٣٥٨، ٦٧٢٨، ٧٣٠٥۔ تشریح : فَرْضُ الْخُمُسِ : اموال قیمت کی تقسم کا م کا موضوع جہاد ہی کا ایک حصہ ۔ کا ایک حصہ ہے۔ اس لئے کتاب الجہاد کے بعد ایک الگ کتاب میں اس موضوع سے متعلق ابواب قائم کئے گئے ہیں اور ان میں فقہاء کے اختلاف کا حل پیش کیا گیا ہے۔ جمہور کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اموال غنیمت کا ۴/۵ مجاہدین میں تقسیم ہوگا۔ بشرطیکہ وہ امام کے حکم یا اجازت سے جنگ میں شریک ہوئے ہوں۔ لیکن جو بغیر اجازت شریک جہاد ہوں کیا وہ بھی اس سے حصہ پائیں گے یا نہیں؟ اس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ اسی طرح مجاہدین میں سے کس کے لئے کتنا اور کب حصہ ملنا چاہیے اور آیا تقسیم سے قبل غنیمت میں غنیمت میں سے کوئی مال لینا لینا جائز ہے یا نہیں؟ ان مسائل سے متعلق مختلف نظریئے ہیں۔ امام بخاری نے ابواب غنیمت قائم کرنے سے پہلے حضرت علی کی دو اونٹنیوں کے واقعہ سے تمہید اٹھائی ہے۔ حمزہ کا نشہ شراب کی حالت میں ان کے کوہان کاٹنے اور کلیجے نکالنے سے متعلق واقعہ ہجرت کے ابتدائی زمانے کا ہے۔ ابن اسحاق کے قول کے مطابق اموال غنیمت کی تقسیم سریہ عبداللہ بن جحش کے موقع پر ہوئی تھی جو غزوہ بدر سے دو ماہ قبل رجب ۲ھ میں قریش کے تجارتی قافلہ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی غرض سے بھیجا گیا تھا اور اس پہلی جھڑپ میں جو اونٹ وغیرہ مالِ غنیمت حاصل ہوا تھا اسے تقسیم کیا گیا تھا۔ آیا یہ تقسیم کسی الہی حکم کے تحت عمل میں آئی تھی یا قدیم دستور کے مطابق عبداللہ بن جحش کی مرضی سے ، سیرت نگاروں کے نزدیک غزوہ بدر تک تو تقسیم غنیمت سے متعلق کوئی واضح حکم نافذ نہیں ہوا تھا، بلکہ اس کے بعد نازل ہوا اور غزوہ بدر کی غنیمت برابر حصوں میں تقسیم کی گئی۔ داؤ دی اور سبکی نے بھی سورہ انفال کا نزول غزوہ بدر ہی اسے سے مخصوص کیا ہے اور اسی میں میں خمس جس کا کا ذکر ذکر ہے اور ابن بطال بطا کے نزدیک حضرت علی کا قول أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ قابل تاویل ہے کہ شمس کی اصطلاح جو بعد کے حکم سے تعلق رکھتی ہے یہاں اموال غنیمت کے معنوں میں استعمال کی گئی ہے۔ لیکن امام ابن حجر نے اس تاویل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کتاب المغازی میں یہی روایت مذکور ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں : كَانَ النَّبِيُّ لا أَعْطَانِي مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَيْهِ مِنَ الْخُمُسِ - (روایت نمبر ۴۰۰۳) اس روایت سے ظاہر ہے کہ اونٹنی اموال فے سے حضرت علیؓ کو دی گئی تھی ۔ کے وہ مال ہے جو بغیر لڑائی کے حاصل ہو۔ على ( فتح الباری جزء ۶ صفحه ۲۳۸، ۲۳۹) (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحه ۱۸)