صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 445
صحیح البخاری جلده لديدة ۵۷ - کتاب فرض الخمس تقسیم غنائم کی فرضیت و مشروعیت کے تعلق ہی میں یہ تمہید اٹھائی گئی ہے۔ روایت نمبر ۳۰۹۱ سے ظاہر ہے کہ سوره انفال واقعہ مذکورہ بالا کے بعد نازل ہوئی ۔ امام بخاری نے اب تک مختلف مواضیع کے بارے میں لکھا ہے، ان کی ابتداء آیات سے کیا ت سے کی گئی ہے۔ مگر یہاں آیت متعلقہ خمس نہیں ۔ میں ہے۔ فَرُضُ الْخُمُسِ کا عنوان رکھ کر ایسی روایت نقل کی ہے جس میں شَارِفًا مِنَ الْخُمْسِ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں خمس کا تعلق دونوں قسم کے اموال سے ہے۔ اموالِ غنیمت سے بھی جو جنگ میں حاصل ہوں اور اموال فے سے بھی جو بغیر جنگ حاصل ہوں ۔ روایت نمبر ۳۰۹۲ کا تعلق بھی اموال فے سے ہے۔ تینوں روایتوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے بتایا گیا ہے کہ خمس کی تقسیم کا دستور احکام نازل ہونے سے قبل بھی تھا اور بعد میں بھی قائم رہا۔ لیکن اس کی شکل میں تبدیلی ہوئی۔ جن دو آیتوں میں تعارض کا شبہ ہوا ہے، وہ سورہ انفال اور سورہ حشر کی ہیں۔ پہلی آیت یہ ہے : وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ - (الأنفال (۴۲) اور جان لو کہ جو کچھ بھی تم کو غنیمت میں ملے اس میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لئے اور رسول سے قرب رکھنے والوں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں کے لئے اور مسافروں کے لئے پانچواں حصہ ہے۔ اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس پر بھی جو ہم نے اپنے بندہ پر حق و باطل میں فیصلہ کر دینے والے دن میں نازل کیا تھا جس دن کہ دونوں لشکر جمع ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت میں یوم الفرقان کا ذکر ہے جس سے مراد غزوہ بدر ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ شمس کے بارے میں حکم واقعہ نخلہ (یعنی سریہ عبداللہ بن جحش ) کے بعد نازل ہوا۔ دوسری آیت یہ ب : مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ (الحشر :(۸) بستیوں کے لوگوں کا جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عطا فرمایا ہے وہ اللہ کا (ہے) اور رسول کا (ہے) اور قرابت داروں کا (ہے) اور یتیموں کا (ہے) اور مسکینوں کا (ہے) اور مسافروں کا ہے۔ تا وہ مال تم میں سے مال داروں کے اندر چکر نہ کھاتا پھرے اور رسول جو کچھ تم کو دے اس کو ہے: لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ کا عذاب یقیناً بہت سخت ہوتا ہے۔ پہلی آیت سے ظاہر ہے کہ جو غنیمت بھی حاصل ہو وہ قابل تخمیں ہے۔ یعنی اس کا پانچواں حصہ الگ کر کے باقی مال محارب مجاہدین میں تقسیم کیا جائے۔ دوسری آیت سے ظاہر ہے کہ اموال کی تقسیم کلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر ہے۔ اس لئے یہ آیت پہلی آیت کی ناسخ سمجھی گئی ہے۔ ایسا نہیں ۔ دوسری آیت سے ماقبل کی آیت میں صراحت ہے کہ یہاں ان اموال کا ذکر ہے جو بغیر جنگ حاصل ہوں ۔ دونوں قسم کے اموال میں لفظ غنیمت اور لفظ کے سے فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔ فَاءَ يَفِيءُ فَيْئًا کے معنی ہیں رَجَعَ - لوٹا اور فَاءَ الظُّلُّ کے معنی ہوتے ہیں تَحَوَّل سایہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گیا ۔ (اقرب الموارد-فاء) یہودیوں کے چلے جانے سے جو اراضیات خالی ہو گئی تھیں وہ اموال کے تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی تھیں۔ قبائل بنو نضیر کا اپنی بستیوں کو چھوڑ کر جانے کی وجہ کتاب المغازی باب حدیث بنی نصیر میں بنی نضیر میں تفصیل سے بیان کی جائے گا بیان کی جائے گی کہ انہوں نے کن حالات میں یہ راہ اختیار کی۔ : لی ۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اموال غنیمت اور اموال فے میں کیا فرق ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قسم کے اموال میں بھی