صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 445
صحیح ! ماری جلده ۴۴۵ ۷ ۵- کتاب فرض الخمس تقسیم غنائم کی فرضیت و مشروعیت کے تعلق ہی میں یہ تمہید اٹھائی گئی ہے۔روایت نمبر ۳۰۹ سے ظاہر ہے کہ سورۃ انفال واقعہ مذکورہ بالا کے بعد نازل ہوئی۔امام بخاری نے اب تک مختلف مواضیع کے بارے میں لکھا ہے، ان کی ابتداء آیات سے کی گئی ہے۔مگر یہاں آیت متعلقہ خمس نہیں ہے۔فَرضُ الخُمُسِ کا عنوان رکھ کر ایسی روایت نقل کی ہے جس میں شَارِفًا مِنَ الْخُمُسِ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔شمس کا تعلق دونوں قسم کے اموال سے ہے۔اموال غنیمت سے بھی جو جنگ میں حاصل ہوں اور اموال کے سے بھی جو بغیر جنگ حاصل ہوں۔روایت نمبر ۳۰۹۲ کا تعلق بھی اموال کے سے ہے۔تینوں روایتوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے بتایا گیا ہے کہ شمس کی تقسیم کا دستور احکام نازل ہونے سے قبل بھی تھا اور بعد میں بھی قائم رہا۔لیکن اس کی شکل میں تبدیلی ہوئی۔جن دو آیتوں میں تعارض کا شبہ ہوا ہے، وہ سورۃ انفال اور سورہ حشر کی ہیں۔پہلی آیت یہ ہے: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَيمُتُم مِّنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ ـ (الأنفال: ۴۲) اور جان لو کہ جو کچھ بھی تم کو غنیمت میں ملے اس میں سے اللہ اور اس کے رسول کے لئے اور رسول سے قرب رکھنے والوں کے لئے اور قیموں اور مسکینوں کے لئے اور مسافروں کے لئے پانچواں حصہ ہے۔اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس پر بھی جو ہم نے اپنے بندہ پر حق و باطل میں فیصلہ کر دینے والے دن میں نازل کیا تھا جس دن کہ دونوں لشکر جمع ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت میں یوم الفرقان کا ذکر ہے جس سے مراد غزوہ بدر ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ شمس کے بارے میں حکم واقعہ نخلہ ( یعنی سریہ عبداللہ بن جحش ) کے بعد نازل ہوا۔دوسری آیت یہ ہے : مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ (الحشر : ۸) بستیوں کے لوگوں کا جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عطا فرمایا ہے وہ اللہ کا ( ہے ) اور رسول کا (ہے) اور قرابت داروں کا (ہے) اور قیموں کا (ہے) اور مسکینوں کا (ہے) اور مسافروں کا ہے۔تا وہ مال تم میں سے مال داروں کے اندر چکر نہ کھا تا پھرے اور رسول جو کچھ تم کو دے اس کو لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رُک جاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ کا عذاب یقیناً بہت سخت ہوتا ہے۔پہلی آیت سے ظاہر ہے کہ جو غنیمت بھی حاصل ہو وہ قابل تخمیں ہے۔یعنی اس کا پانچواں حصہ الگ کر کے باقی مال محارب مجاہدین میں تقسیم کیا جائے۔دوسری آیت سے ظاہر ہے کہ اموال کی تقسیم کلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی پر ہے۔اس لئے یہ آیت پہلی آیت کی ناسخ کبھی گئی ہے۔ایسا نہیں۔دوسری آیت سے ماقبل کی آیت میں صراحت ہے کہ یہاں ان اموال کا ذکر ہے جو بغیر جنگ حاصل ہوں۔دونوں قسم کے اموال میں لفظ غنیمت اور لفظ کے سے فرق ملحوظ رکھا گیا ہے۔فَاءَ يَفِيءُ فَيْنًا کے معنی ہیں رَجَعَ - کوتا اور فَاءَ الظُّلُّ کے معنی ہوتے ہیں تحول سایہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گیا۔(اقرب الموارد فاء) یہودیوں کے چلے جانے سے جو اراضیات خالی ہو گئی تھیں وہ اموال کے تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منتقل ہوگئی تھیں۔قبائل بنو نضیر کا اپنی بستیوں کو چھوڑ کر جانے کی وجہ کتاب المغازی باب حدیث بنی نضیر میں تفصیل سے بیان کی جائے گی کہ انہوں نے کن حالات میں یہ راہ اختیار کی۔یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اموال غنیمت اور اموال کے میں کیا فرق ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری قسم کے اموال میں بھی