صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 439
صحيح البخاری جلده لدة ۵۷ - کتاب فرض الخمس عَلِي وَعَبَّاسٍ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكْ فَأَمْسَكَهَا لیا اور کہا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے اموال صدقہ ہیں جو عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُوْلِ اللهِ آپ کے ان حقوق کے مصرف کیلئے مخصوص تھے جو كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ آپ کو پیش آتے اور وہ ناگہانی ضرورتیں جو آپ کو وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى وَلِيِّ الْأَمْرِ ہوتیں اور ان دونوں کی نگرانی اس کے سپرد ہے جو آپ کا ولی عہد ( اور جانشین ) ہے۔ زہری کہتے تھے قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ۔ کہ یہ دونوں جائیدادیں آج تک اسی صورت پر ہیں۔ يَعْرُوْهُ وَاعْتَرَانِي۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ اعْتَرَك (هود: ٥٥) ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: اعْتَرَى - عَرَى يَعْرُو افْتَعَلْتَ مِنْ عَرَوْتُهُ فَأَصَبْتُهُ وَمِنْهُ سے باب افتعال ہے۔ اِعْتَرَاک یعنی تجھے (کوئی معاملہ ) پیش آیا۔ عَرَوْتُه یعنی مجھے یہ امر پیش آیا۔ اور اس سے يَعْرُوُہ (یعنی اسے وہ امر در پیش ہے ) اور اِعْتَرَانِي (یعنی یہ معاملہ مجھ پر چھا گیا ) بھی ہے۔ اطرافه: ٣٧۱۲، ٤٠٣٦، ٤٢٤١، ٦٧٢٦۔ ٣٠٩٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۰۹۴: اسحق بن محمد فروی نے ہم سے بیان کیا کہ الْفَرَوِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب سے مروی ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ ہے۔ انہوں نے مالک بن اوس بن الحدثان سے الْحَدَثَانِ وَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ ذَكَرَ روایت کی کہ (زہری نے کہا) محمد بن جبیر نے بھی لِي ذِكْرًا مِنْ حَدِيْثِهِ ذَلِكَ فَانْطَلَقْتُ مالک بن اوس کی اس حدیث میں سے کچھ حصہ مجھ سے حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ذکر کیا تھا۔ پھر میں خود مالک بن اوس کے پاس چلا گیا اور ان کے پاس جا کر اس حدیث کے متعلق ان سے فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَقَالَ پوچھا تو مالک نے کہا: ایسا ہوا کہ ایک دن میں اپنے رم پیغامبر مَالِكَ بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِيْنَ گھر والوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ جب دن چڑھ چکا مَتَعَ النَّهَارُ إِذَا رَسُوْلُ عُمَرَ بْنِ اور دھو اور دھوپ گرم ہو گئی تو حضرت عمر بن خطاب کا پیغ الْخَطَّابِ يَأْتِيْنِي فَقَالَ أَجِبْ أَمِيرَ میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ امیر المؤمنین آپ کو الْمُؤْمِنِينَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَدْخُلَ بلاتے ہیں چلئے۔ تو میں اس کے ساتھ چلا گیا۔ یہاں