صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 440 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 440

صحيح البخاری جلده موم ۵۷ - کتاب فرض الخمس عَلَى عُمَرَ فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ عَلَى رِمَالِ تک کہ حضرت عمر کے پاس اندر گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں سَرِيْرٍ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاضٌ مُتَّكِی کہ وہ بور یہ بچھائے اس پر بیٹھے ہیں۔بوریئے پر کوئی عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ بچھونا نہیں تھا۔چھڑے کے تکیہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔میں نے آپ کو السلام علیکم کہا۔پھر بیٹھ گیا تو جَلَسْتُ فَقَالَ يَا مَالِ إِنَّهُ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ انہوں نے کہا: مالک ! آپ کی قوم کے چند گھرانے قَوْمِكَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ میرے پاس آئے ہیں اور میں نے انہیں تھوڑا سا مال بِرَضْحَ فَاقْبِضْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ فَقُلْتُ دینے کا حکم دے دیا ہے۔آپ وہ لے لیں اور ان کے يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَوْ أَمَرْتَ لَهُ غَيْرِي در میان تقسیم کر دیں۔میں نے کہا: یا امیر المؤمنین ! اگر قَالَ فَاقْبِضْهُ أَيُّهَا الْمَرْءُ فَبَيْنَمَا أَنَا آپ میرے علاوہ کسی اور شخص کو اس کا ارشاد فرمائیں تو جَالِسٌ عِنْدَهُ أَتَاهُ حَاجِبُهُ يَرْفَا فَقَالَ بہتر ہے۔انہوں نے کہا: اسے تم لے لو۔اسی دوران کہ هَلْ لَكَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْن میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا دربان سرفا نامی ان کے پاس آیا اور کہا کہ آپ حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت زبیر اور حضرت عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ يَسْتَأْذِنُوْنَ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ سعد بن ابی وقاص سے ملاقات کریں گے؟ انہوں نے فَدَخَلُوْا فَسَلَّمُوْا وَجَلَسُوا ثُمَّ جَلَسَ کہا: ہاں اور انہیں اجازت دی۔وہ اندر آئے اور يَرْفَا يَسِيْرًا ثُمَّ قَالَ هَلْ لَّكَ فِي عَلِيّ السلام علیکم کہا اور بیٹھ گئے اور سرفا کچھ دیر اپنی جگہ پر ) وَعَبَّاسٍ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَدَخَلَا بیٹھا ہی تھا کہ اس نے آکر (حضرت عمر) سے کہا کہ آپ فَسَلَّمَا فَجَلَسَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ حضرت علیؓ اور حضرت عباس سے ملاقات کریں گے؟ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا وَهُمَا تو حضرت عمر نے) کہا: ہاں اور ان دونوں کو اجازت ( دی اور وہ اندر آئے اور اندر آکر انہوں نے السلام علیکم کہا اور دونوں بیٹھ گئے۔حضرت عباس کہنے لگے: مِنْ مَّالِ بَنِي النَّضِيْرِ فَقَالَ امیرالمومنین! میرے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں الرَّهْطُ عُثْمَانُ وَأَصْحَابُهُ يَا أَمِيرَ اور ان دونوں کے درمیان اس جائیداد کے متعلق جھگڑا الْمُؤْمِنِيْنَ اقْضِ بَيْنَهُمَا وَأَرِحْ أَحَدَهُمَا تھا جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو بنی نضیر سے بطور يَخْتَصِمَانِ فِيْمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُوْلِهِ