صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 414
صحیح البخاری جلده ۴۱۴ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدًا لِابْنِ عُمَرَ کی کہ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمرؓ کا أَبَقَ فَلَحِقَ بِالرُّوْمِ فَظَهَرَ عَلَيْهِ خَالِدُ ایک غلام فرار ہو گیا اور رومیوں کی طرف چلا گیا۔ حضرت ابْنُ الْوَلِيدِ فَرَدَّهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ وَأَنَّ خالد بن ولید رومیوں پر غالب آئے اور انہوں نے فَرَسًا لِابْنِ عُمَرَ عَارَ فَلَحِقَ بِالرُّومِ حضرت عبد اللہ کو غلام واپس دلا دیا اور حضرت ابن ع عمر کا فَظَهَرَ عَلَيْهِ فَرَدُّوهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ۔ قَالَ ایک گھوڑا بھاگ نکلا اور رومیوں کے لشکر میں جا پہنچا۔ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ عَارَ مُشْتَقٌ مِنَ الْعَيْرِ پھر حضرت خالد بن ولید ان پر غالب آئے اور انہوں نے وہ گھوڑا حضرت عبداللہ کو دے دیا۔ ابو عبد الله وَهُوَ حِمَارُ وَحْشِ أَيْ هَرَبَ ۔ (امام بخاری) نے کہا: عَارَ ، غیر سے مشتق ہے اور اس سے مراد جنگلی گدھا ہے یعنی جب وہ بھاگ جائے۔ اطرافه: ٣٠٦٧، ٣٠٦٩۔ ٣٠٦٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۳۰۶۹: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، موسیٰ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سے روایت کی کہ جس دن مسلمانوں کا (رومیوں سے ) كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُوْنَ مقابلہ ہوا، وہ گھوڑے پر سوار تھے۔ ان دنوں حضرت وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ خالد بن ولید مسلمانوں کی فوج کے سردار تھے۔ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ حضرت ابوبکر نے ان کو امیر بنا کر بھیجا تھا۔ دشمن نے فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ۔ وہ گھوڑا پکڑ لیا۔ جب دشمن کو شکست دے کر بھگا دیا گیا تو حضرت خالد نے ان کا گھوڑا واپس کر دیا۔ اطرافه: ٣٠٦٧، ٣٠٦٨ تشريح : إِذَا غَنِمَ الْمُشْرِكُونَ مَالَ الْمُسْلِمِ ثُمَّ وَجَدَهُ الْمُسْلِمُ : یہ باب بھی ایک فقہی اختلاف کی وجہ سے قائم قائم کیا گیا ہے کہ کیا جنگ میں مسلم سے چھینا ہوا ما ا ہوا مال غیر مسلم محارب کی ملکیت : ملکیت ہو جاتا ہے یا مسلم مجاہد کی ملکیت ہی قائم رہتی ہے اور اس بناء پر جب اس کو اس کا مال دوبارہ مل جائے تو کیا یہ مال اموال غنیمت کا حصہ ہو گا یا وہ اس مجاہد کا ہوگا جس سے لوٹا گیا تھا؟ یہ وہ سوال ہے جس کی نسبت فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ امام شافعی اور ایک گروہ کی رائے ہے کہ دشمن کے قبضہ میں چلا جانے پر بھی مجاہد کی ملکیت قائم رہتی ہے اور جب دوبارہ ملے تو وہ