صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 403
صحيح البخاری جلده لله الله ۵۶ - کتاب الجهاد والسير عُنُقَهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (جس کی خبر دی گئی ہے ) تو تم اس پر قابو نہیں پاسکو إِنْ يَكُنهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَّمْ يَكُنْهُ گے اور اگر وہ نہ ہوا تو پھر اس کے مار ڈالنے میں فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ۔ اطرافه: 1٣٥٤، 6173، 6618۔ تمہارے لئے کوئی بھلائی نہیں۔ ٣٠٥٦ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ :۳۰۵۶: دوسری روایت حضرت ابن عمر سے اسی سند صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ سے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ اس نخلستان میں گئے جہاں ابن صیاد تھا۔ جب اس حَتَّى إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ طَفِقَ النَّبِيُّ نخلستان میں داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ کی آڑ میں چلنے لگے اور آپ (ابن صیاد کے پاس) النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِن دبے پاؤں آہستہ آہستہ جا رہے تھے تا آپ ابن صیاد ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ سے پیشتر اس ز اس کے کہ وہ آپ کو دیکھے، کچھ سن لیں اور صَيَّادٍ مُضْطَجِعْ عَلَى فِرَاشِهِ فِي ابن صیاد اپنے بچھونے پر ایک کمبل اوڑھے ہوئے لیٹا تھا۔ اس میں کچھ گنگناہٹ کی سی آواز تھی۔ ابن صیاد قَطِيفَةٍ لَّهُ فِيْهَا رَمْزَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا۔ جب آپ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کھجوروں کی آڑ لئے ( دبے پاؤں ) آ رہے تھے۔ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ اس نے ابن صیاد کو پکار کر کہا: ارے صاف اور یہ اس کا لِابْنِ صَيَّادٍ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ نام تھا۔ (محمد آئے ہیں ) یہ سنتے ہی ابن صیاد اُٹھ کھڑا فَتَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اگر وہ اسے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ۔ اطرافه ١٣٥٥ ، ٢٦٣٨، ٣٠٣٣، ٦١٧٤۔ رہنے دیتی تو حال کھل جاتا۔ ٣٠٥٧ : وَقَالَ سَالِمٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ ۳۰۵۷ اور سالم ( بن عبداللہ ) نے کہا: حضرت ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابن عمر کہتے تھے: پھر اس کے بعد نبی ﷺ لوگوں میں النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ کھڑے ہوئے اور اللہ کی وہ تعریف کی جس کا وہ مستحق