صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 393 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 393

صحيح البخاری جلده ۳۹۳ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير قُتِلَ صَبْرًا فَاسْتَجَابَ اللهُ لِعَاصِمِ پڑھنے کی سنت قائم کی جو باندھ کر مارا جائے۔ اللہ نے ابْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ أُصِيْبَ فَأَخْبَرَ النَّبِيُّ عاصم بن ثابت کی دعا جس دن وہ شہید ہوئے قبول صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بتایا جو ان لوگوں کے ساتھ واقعہ ہوا تھا اور جو انہیں تکلیف خَبَرَهُمْ وَمَا أُصِيبُوْا وَبَعَثَ نَاسٌ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ إِلَى إِلَى عَاصِمٍ حِيْنَ حُدَثُوا عاصم قتل قتل کئے کئے گئے ہیں تو انہوں نے نے عاصم عاصم کی کی طرف أَنَّهُ قُتِلَ لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْهُ يُعْرَفُ کچھ آدمیوں کو بھیجا کہ ان کی لاش میں سے ایسا حصہ وَكَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ عُظَمَائِهِمْ لائے کہ جس سے پہچانے جائیں اور عاصم نے بدر پہنچی تھی اور جب کفار قریش کو بعض لوگوں نے بتایا کہ يَوْمَ بَدْرٍ فَبُعِثَ عَلَى عَاصِمٍ مِثْلُ کے دن ان کے بڑے بڑے لوگوں میں سے ایک الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ رَسُوْلِهِمْ شخص کو قتل کیا تھا تو عاصم کی لاش پر بھڑوں کا ایک فَلَمْ يَقْدِرُوْا عَلَى أَنْ يَقْطَعُوْا مِنْ جھنڈ بھیجا گیا جو سائبان کی طرح اوپر احاطہ کئے لَّحْمِهِ شَيْئًا ۔ اطرافه: ۳۹۸۹، ٤٠٤٦، ٧٤٠٢۔ ہوئے تھا اور اس طرح ان کی لاش کو کفار کے بھیجے ہوئے آدمیوں سے بچا لیا گیا اور وہ ان کے گوشت سے کوئی ٹکڑا نہ کاٹ سکے۔ تشريح : هَلْ يَسْتَأْسِرُ الرَّجُلُ وَمَنْ لَّمْ يَسْتَأْسِرُ وَمَنْ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ عِندَ الْقَتْلِ: عنوان باب استفتاء کی صورت میں قائم کر کے صحابہ کرام کے عمل سے دکھایا گیا ہے کہ موقع وحالات کے مطابق دونوں صورتیں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ (۱) کہ اپنے آپ کو دشمن - دشمن کے سپرد نہ کرے بلکہ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے پ بود جام شہادت ہے ۔ (۲) یا مقابلہ کی طاقت نہ رکھنے پر اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کر دے۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت کی تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب المغازی، باب ۱۰۔ ۔ بَاب ۱۷۱ : فَكَاكُ الْأَسِيْرِ قیدی کی رہائی فِيْهِ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ اس بارے میں حضرت ابوموسی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔