صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 372
صحيح البخاری جلده - ٣٧٢ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ١٥٦ : لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوّ دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو ٣٠٢٤ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى :۳۰۲۴ یوسف بن موسیٰ نے ہمیں بتایا۔عاصم بن حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ الْيَرْبُوعِيُّ يوسف ربوعی نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسحق فزاری حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ نے ہمیں بتایا، (کہا: ) موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے مُّوْسَى بْن عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ کہ انہوں نے کہا: سالم ابوالنصر نے مجھ سے بیان کیا أبُو النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ جو عمر بن عبید اللہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ میں عمر بن كُنْتُ كَاتِبًا لَهُ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ عبید اللہ کا محرر تھا۔انہوں نے کہا کہ جب وہ خوارج ابْنُ أَبِي أَوْفَى حِيْنَ خَرَجَ إِلَى کی طرف گئے تو حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی نے الْحَرُوْرِيَّةِ فَقَرَأْتُهُ فَإِذَا فِيْهِ إِنَّ انہیں (خط) لکھا۔میں نے اسے پڑھا تو اس میں رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ان جنگوں بَعْضِ أَيَّامِهِ الَّتِي لَقِيَ فِيْهَا الْعَدُوَّ میں سے جو آپ نے دشمن سے کیس ایک جنگ میں انْتَظَرَ حَتَّى مَالَتِ الشَّمْسُ۔اطرافه ۲۸۱۸، ۲۸۳۳، ٢٩٦٦، ٧٢٣٧۔اس وقت تک انتظار کیا کہ سورج ڈھل گیا۔٣٠٢٥ : ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَقَالَ :۳۰۲۵ پھر آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ وَسَلُوا اللهَ دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو اور اللہ سے عافیت الْعَافِيَةَ فَإِذَا لَقِيْتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا مانگتے رہو اور اگر ان سے مقابلہ ہو جائے تو پھر وَاعْلَمُوْا أَنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ ظِلالِ استقلال دکھاؤ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سائے السُّيوفِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ میں ہے۔پھر آپ نے فرمایا: اے اللہ، کتاب کے وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَهَازِمَ الْأَحْزَابِ نازل کرنے والے، بادلوں کے چلانے والے اور اهْزِمْهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ۔فوجوں کو شکست دینے والے ! ان کو شکست دے اور ان کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔