صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 373
صحيح البخارى جلده ۳۷۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَقَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا: سالم ابونضر نے مجھ سے سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ كُنْتُ كَاتِبًا لِعُمَرَ بیان کیا : میں عمر بن عبید اللہ کا محر تھا کہ اُن کے پاس ابْنِ عُبَيْدِ اللهِ فَأَتَاهُ كِتَابُ عَبْدِ اللَّهِ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کا خط آیا کہ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : دشمن سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مقابلہ کی آرزو نہ کرو۔لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُو۔اطرافه ۲۹۳۳، ۲۹٦٥، ۱۱۵، ۱۳۹۲، ٧٤۸۹۔٣٠٢٦ : وَقَالَ أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا :۳۰۲۶ اور ابو عامر ( عبدالملک بن عمرو ) نے کہا: مُغِيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي ہم سے مغیرہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا۔انہوں نے الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوّ علیہ وسلم نے فرمایا: دشمن سے مقابلہ کی آرزو نہ کرو اور اگر ان سے مقابلہ ہو جائے تو پھر استقلال دکھاؤ۔رضي فَإِذَا لَقِيْتُمُوْهُمْ فَاصْبِرُوْا۔تشریح لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوّ : اسلامی شریعت کے احکامِ جنگ میں سے ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ آیا لڑائی کی ابتداء مسلمانوں کی طرف سے ہونی چاہیے یا نہیں؟ اس باب کی روایات سے تو ظاہر ہے کہ لڑائی کی خواہش تک نہ ہو۔قرآن مجید میں اس امر کی صراحت ہے کہ لڑائی کی ابتداء کفار سے ہوئی۔فرماتا ہے: أَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوا أَيْمَانَهُمْ ط وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ قَاتِلُوهُمْ يُعَذِبُهُمُ اللهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرُكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ) (التوبة : ۱۳ - ۱۴) (اے مومنو!) کیا تم اس قوم سے نہیں لڑو گے۔جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ دیں اور رسول کو (اس کے گھر سے) نکالنے کا فیصلہ کر لیا اور تم سے ( جنگ چھیڑنے میں ) انہوں نے (ہی ) ابتداء کی۔کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ (اگر ایسا ہے تو اگر تم مومن ہو تو سمجھ لو کہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ان سے لڑو، اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب دلوائے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ دے گا اور اس ( ذریعہ) سے مومن قوم کے دلوں کو ( صدمہ اور خوف سے ) نجات دے گا۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) ان آیات سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام جنگ کرنا نہیں چاہتے تھے۔خود حفاظتی کے لئے انہیں حکماً جنگ کے لئے نکلنا پڑا۔اسلام صرف دفاعی جنگ کی اجازت دیتا اور اس میں ابتداء کرنے سے منع کرتا ہے۔