صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 233
صحيح البخاری جلده ۲۳۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير وَلَّى سُرْعَانُ النَّاسِ فَلَقِيَهُمْ هَوَازِنُ انہوں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بِالنَّيْلِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پیٹھ نہیں پھیری۔ بلکہ جلد بازلا باز لوگوں نے پیٹھ پھیری عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ تھی ۔ ہوازن نے ان کا تیروں سے مقابلہ کیا اور نبی الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سفید خچر پر سوار تھے۔ ابوسفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور نبی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ صلی اللہ علیہ وسلم یہ (شعر) پڑھ رہے تھے: میں موعود نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اطرافه: ٢٨٦٤ ، ۲۹۳٠، ۳۰۴۲، 4۳۱۵، 4316، 4317۔ تشريح: وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً: ان ابواب میں سواری اور بار برداری کے جانوروں ، ان کے ناموں، ان کی اچھی اور بری خصلتوں، ان جانوروں کے نام رکھنے کی اغراض اور گھوڑوں کی تربیت و پرورش وغیرہ سے متعلق متعدد روایات بیان کی گئی ہیں۔ اسْمُ الْفَرَسِ وَالْحِمَارِ : مختلف اوصاف کے لحاظ سے گھوڑوں کے خاص نام رکھے جاتے تھے۔ گھوڑوں سے عربوں کی محبت مشہور ہے اور ان کے ذہنوں میں اب تک یہ خیال راسخ ہے کہ اگر کسی خاندان سے اس کے گھوڑوں کی نسل ختم ہو جائے تو اس خاندان کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ دوران جنگ عظیم اول اگست ۱۹۱۷ء میں مرحوم نمیر نابلسی (شام) کے یہاں مجھے چند روز قیام کا اتفاق ہوا۔ ان کی ایک گھوڑی تھی جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے صلیبی جہاد میں شریک ہونے والے گھوڑوں کی نسل سے تھی۔ مرحوم جمال پاشا کمانڈر انچیف افواج ترکیہ بریہ و بحریہ نے اس گھوڑی کے لئے ایک ہزار اشرفی قیمت ان کو پیش کی مگر انہوں نے معذرت کی کہ یہ خاندانی گھوڑی ہے۔ چاند ماری میں فن حرب سے متعلق اس گھوڑی کی واقفیت، مہارت، جولانی اور اس کا کروفر اور اس کے داؤ پیچ اور دشمن کے محاصرہ میں اس کی تیز رفتاری اور عقل وسمجھ دیکھ کر مجھے تعجب اور جنگ میں ان گھوڑوں کی قدر و قیمت کا علم ہوا۔ اس چاند ماری میں مجھے ہی نشان بنایا گیا تھا۔ جس کے لئے ایک عمدہ گھوڑ سواری کے لئے مجھے دیا گیا۔ ان کے یہاں گھوڑوں کے نام بھی تھے جو اُن کے خاص وصف پر دلالت کرتے تھے۔ آنحضرت مے کے کم و بیش چو میں سواری کے جانور تھے جن میں سے ایک گھوڑے کا نام تحریف تھا۔ یعنی بختی سے پیچھا کرنے والا ۔ آپ کی ایک اونٹنی کا نام قصواء اور دوسری کا عضباء اور گدھے کا نام غفیر یا یعفور تھا۔ آپ کی بکری کا نام عیشہ تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۴ صفحہ ۱۴۶) یہ تسمیہ جانوروں سے الفت و محبت کی علامت ہے۔ روایت نمبر ۲۸۵۴ میں الله