صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 225
صحيح البخاری جلده ۲۲۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ٢٨٦٢: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۸۶۲: احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قتاده سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَع انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت انس نے فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا مدینہ میں گھبراہٹ ہوئی تو نبی صل اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ کا گھوڑا مستعار لیا جسے مندوب کہتے تھے۔ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوْبٌ آپ اس پر سوار ہو گئے ۔ ( پھر آپ واپس لوٹے ) اور فَرَكِبَهُ وَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ آپ نے فرمایا: ہم نے تو کوئی گھبرانے کی بات نہیں وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا ۔ دیکھی اور ہم نے اس گھوڑے کو ایک دریا پایا۔ اطرافه: ۲۶۲۷، ۲۸۲۰، ٢٨٥٧، ٢٨٦٦، ۲٨٦٧، ۲۹۰۸، ٢٩٦٨، ٢٩٦٩، ٣٠٤٠، ٦٠، ٦٢١٢۳۳ بَاب ٥١ : سِهَامُ الْفَرَسِ گھوڑے کا حصہ غنیمت ٢٨٦٣ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۲۸۶۳ : عبید بن اسماعیل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہے، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعِ ابواسامہ سے، ابواسامہ نے عبیداللہ (عمری) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ انہوں نے نافع سے، نافع نے (حضرت عبداللہ ) بن عمر رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جہاد میں شامل ہونے والے ) گھوڑے کے دو جَعَلَ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِصَاحِبِهِ سَهْمًا حصے رکھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ۔ اور (امام) وَقَالَ مَالِكٌ يُسْهَمُ لِلْخَيْلِ وَالْبَرَاذِيْنِ مالک نے کہا: عربی گھوڑوں کے لئے بھی حصہ رکھا گیا مِنْهَا لِقَوْلِهِ : وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ اور ترکی گھوڑوں کے لئے بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا (النحل: (٩) وَلَا ہے: اور ہم نے گھوڑے، خچر اور گدھے سواری کے يُسْهَمُ لِأَكْثَرَ مِنْ فَرَسٍ۔ طرفه: ٤٢٢٨۔ لئے پیدا کئے ہیں۔ (مالک نے کہا: ) ہر سوار کو ایک ہی گھوڑے کا حصہ دیا جائے زیادہ نہیں۔