صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 217 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 217

صحیح البخاری جلده ۲۱۷ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير باب ٤٤ : الْجِهَادُ مَاضٍ مَعَ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ نیک وبد کے ساتھ جہاد ہوتا رہے گا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قیامت الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلَى کے دن تک گھوڑوں کی پیشانیوں سے بھلائی وابستہ يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ رہے گی۔ ٢٨٥٢ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۲۸۵۲ : ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا نے ہمیں زَكَرِيَّاءُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنَا عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ بتایا کہ عامر (ششمی) سے روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حضرت عروہ بارقی نے ہم سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلَى عليہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تک بھلائی گھوڑوں کی پیشانیوں سے بندھی رہے گی۔ یعنی يَوْمِ الْقِيَامَةِ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَمُ۔ اطرافه: ٢٨٥٠، 3119، 3643۔ (آخرت میں ) ثواب اور (دنیا میں ) مال غنیمت ۔ تشريح : الْجِهَادُ مَاضٍ مَعَ الْبَرِّ وَالْفَاجِرِ : عنوانِ باب حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت سے قائ ابو سے قائم کیا ☆ گیا ہے جو ابوداؤد اور ابو یعلی نے نقل کی ہے کہ جب تک نیک و بد دنیا میں موجود ہیں، ان کا و باہم مقابلہ ہوتا ہے اور ساز و سامان جنگ و قتال کی ضرورت بھی باقی رہے گی۔ مشار الیہ روایت میں ایک راوی مکحول ہیں جن کی ملاقات و سماعت حضرت ابو ہریرہ سے ثابت نہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۱۴۵) امام بخاری نے بارقی کی روایت سے باب کا عنوان قائم کر کے یہ استدلال کیا ہے کہ قیامت تک جہاد اور متعلقہ حربی سامانوں کی ضرورت رہے گی۔ فنون جنگ و جدال نے جو نئی نئی طرحیں ڈالی اور صورتیں بدلی ہیں ان کے پیش نظر یہ ممکن ہے کہ کسی وقت گھوڑوں کی میدانِ جنگ میں ضرورت نہ رہے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ جہاد کسی شکل وصورت میں بھی نہ پایا جائے کیونکہ اسلام میں جہاد فی سبیل اللہ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ دیکھئے تشریح کتاب الحج، باب ۴۔ الْأَجْرُ وَالْمَغْنَم : خیر و برکت کی وضاحت الفاظ ثواب اور غنیمت سے کی گئی ہے۔ یعنی جہاد میں دینی اور دنیوی دونوں فائدے ہیں۔ جملہ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ فصاحت و بلاغت اور صفائی کی رو سے جوامع الکلم میں سے ہے جس طرح جملہ الْجَنَّةُ تَحْتَ بِارِقَةِ السُّيُوفِ ہے۔ (ابو داؤد، كتاب الجهاد، باب في الغزو مع ائمة الجور)