صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 216 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 216

صحيح البخاری جلده ۲۱۶ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير الْجَعْدِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عروہ بن جعد سے، حضرت عروہ نے نبی قَالَ الْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ ﷺ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ قیامت کے إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔قَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ دن تک بھلائی گھوڑوں کی پیشانیوں سے بندھی رہے گی۔سلیمان (بن حرب) نے اس حدیث کو شعبہ شُعْبَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْن أَبِي الْجَعْدِ۔تَابَعَهُ سے، شعبہ نے حضرت عروہ بن ابی جعدہ سے نقل کیا۔مُسَدَّدٌ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ اور سلیمان کی طرح مسدد نے بھی بشیم سے ہشیم نے الشَّعْبِي عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ۔حصین ( بن عبد الرحمن ) سے، حصین نے شعمی سے، شعمی نے حضرت عروہ بن ابی جعد سے روایت کی۔اطرافه ٢٨٥٢، ٣١١٩، ٣٦٤۔٢٨٥١ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى :۲۸۵۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ کچی ( قطان) عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے شعبہ نے ابوتیاح ابْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سے، ابوتیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برکت توگھوڑوں کی پیشانیوں میں ہے۔الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ۔طرفه: ٣٦٤٥۔تشریح: اَلْخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ : کامیاب جہاد کے لئے جس طرح بہادر، دلیر، اطاعت شعار، جانباز اور ثابت قدم مجاہدین اور ان کے ایک نبرد آزما اور صاحب بصیرت و قدرت سالار جیش کی ضرورت ہے۔اسی طرح بہترین ساز و سامان کی بھی۔جس میں گھوڑوں کو قدیم سے اول درجہ پر اہمیت دی گئی ہے اور اب تک ہے۔اس اہمیت کے پیش نظر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : الخَيْلُ مَعْقُودٌ فِي نَوَاصِيْهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ - اگر چہ آج کل فنونِ حرب کی شکل بدل گئی ہے تاہم گھوڑوں کی ضرورت پھر بھی باقی ہے۔باب کی تیسری روایت میں جو حضرت انس بن مالک سے مروی ہے، لفظ الْخَيْرُ کی جگہ الْبَرَكَة نقل کیا گیا ہے اور یہ برکت جنگ کے سوا دوسری صورتوں میں بھی قائم ہے۔باب کی دوسری روایت کے آخر میں سلیمان بن حرب کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ عروہ کی کنیت بجائے ابن جعد کے ابن ابی جعد ہے۔سلیمان بن حرب کی روایت طبرانی نے موصولاً نقل کی ہے۔عروہ بن ابی جعد حضرت عثمان کے عہد خلافت میں مشہور مجاہد تھے اور بارتی کے لقب سے معروف تھے۔بارق علاقہ یمن کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور اسی نام سے قبیلہ ذی بارق ہے۔فتوحات شام میں بارقی شریک ہوئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے کوفہ میں مقیم ہو گئے تھے۔ستر گھوڑے ان کے اصطبل میں موجود رہتے تھے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۶۸) عليم (المعجم الكبير للطبراني، باب العين ذكر عروة بن أبي الجعد، جزء۱۷، صفحه ۱۵۵)