صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 196 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 196

صحيح البخاری جلده 197 ۵۶ - كتاب الجهاد والسير بَاب ۲۹ : مَنِ اخْتَارَ الْغَزْوَ عَلَى الصَّوْمِ جس نے لڑائی کے لئے نکلنا (نفلی) روزے پر مقدم کیا ۲۸۲۸ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۲۸۲۸ آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ثَابِتْ الْبُنَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ثابت بنانی نے ہم سے بیان کیا، ابْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے أَبُو طَلْحَةَ لَا يَصُوْمُ عَلَى عَهْدِ النَّبِي سنا کہتے تھے ابوطلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ الْغَزْو جہاد کی وجہ سے (نفلی) روزہ نہیں رکھا کرتے تھے تا کہ طاقت کم نہ ہو جائے) جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے سوائے عید الفطر یا عید الاضحیٰ فَلَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَرَهُ مُفْطِرًا إِلَّا يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى کے دن کے کبھی ان کو بے روزہ نہیں دیکھا۔شریح : کے لئے جنگ میں جسمانی اور مَنِ اخْتَارَ الْغَزُوَ عَلَى الصَّوُم: مجاہد کے لئے میدان جنگ میں جسمانی اور ذہنی قوتوں کی مضبوطی درکار ہے اور روزے سے کمزوری ہوتی ہے۔جہاد کی خاطر اپنی قوت محفوظ رکھنے کے لئے روزہ ترک کرنا عمل صالح ہے۔باب ۳۰ : الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ اللہ کی راہ میں مارے جانے کے سوا شہادت کی اور بھی سات صورتیں ہیں ۲۸۲۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۸۲۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيْ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سمتی سے سیمی نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابو صالح سے، ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الشُّهَدَاءُ خَمْسَةَ الْمَطْعُوْنُ وَالْمَبْطُونُ شہید پانچ شخص ہیں۔طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، وَالْغَرِقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ (مکان) گرنے سے مرنے والا اور اللہ کی راہ میں فِي سَبِيْلِ اللهِ۔اطرافه: ٦٥٣ ٧٢٠، ٥٧٣٣ شہید ہونے والا۔