صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 195
صحيح البخاری جلده ۱۹۵ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا۔چنانچہ وہ اسی دن ابان بن سعید کے ہاتھوں شہید ہو گئے اور اس کے بعد ابان اسلام سے مشرف ہوئے۔بعض مؤرخین کے نزدیک ابان غزوہ سر موک اور بعض کے نزدیک اجنادین کی جنگ میں شہید ہوئے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۵۱) (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۱۲۳) أَكْرَمَهُ اللهُ عَلَى يَدَيَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ : يعنى نعمان میرے ہاتھوں شہادت سے سرفراز ہوئے اور اگر میں ان کے ہاتھوں بحالت کفر مارا جاتا تو ذلیل ہو جاتا۔مجھے اسلام نصیب ہوا اور اس طرح رسوائی سے بچ گیا۔(عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحه ۱۲۵) وَا عَجَبًا لِوَبْرٍ تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُوْمِ ضَأْن وبرایک پہاڑی حلال جانور ہے جو یکی سے چھوٹا نیولے کی شکل ہوتا ہے۔اس کی دُم چھوٹی ہوتی ہے۔قَدُومُ ضَان کے معنی ہیں پہاڑی کی چوٹیاں۔ضان یا مال نامی پہاڑیاں قبیلہ دوس کے علاقہ میں ہیں۔حضرت ابو ہریرہ روسی تھے۔(عمدۃ القاری جزی ۱۴ صفحہ ۱۲۴، ۱۲۵) ابان نے ان کی بات بری مانی اور تعجب کیا کہ وہ تائب اور مسلمان ہونے کے بعد بھی محلِ طعن و تشنیع رہیں گے۔ابان نے اشارہ کیا ہے کہ تم چھوٹے سے قبیلہ کے آدمی ہو ابھی آئے ہو اور مفتی بن بیٹھے ہو۔فَقَالَ بَعْضُ بَنِي سَعْدِ بْنِ الْعَاصِ : یه ابان بن سعيد بن عاص ہی ہیں جن کی قیادت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے ایک دستہ نجد کی طرف بھیجا تھا۔وہاں سے کوٹ کر خیبر پہنچے جہاں مذکورہ بالا قصہ پیش آیا۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی، باب غزوة خيبر۔امام بخاری نے روایت ۲۸۲۷ کے آخر میں وضاحت کی ہے کہ یہ روایت سفیان بن عینیہ نے بواسطہ زہری عنبہ بن سعید سے سنی اور اسی طرح عمرو بن یحی بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص سے بھی۔امام بخاری کی روایت سے ظاہر ہے کہ حصہ غنیمت طلب کرنے والے حضرت ابو ہریرہ تھے۔اس حوالہ سے مذکورہ بالا روایت میں جو ابہام بَعْضُ بَنِي سَعْدِ بْنِ الْعَاصِ کے الفاظ سے پیدا ہوتا ہے وہ دور کیا گیا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کو حصہ غنیمت دیئے جانے کے خلاف ابان بن سعید بن عاص تھے۔روایت مذکورہ بالا کے حوالے سے جس کی سند میں کوئی شبہ نہیں یہی ثابت ہوتا ہے کہ مومن کا قاتل اگر صدق دل سے تائب ہو تو اعمال صالحہ بجالانے سے نجات پا جاتا ہے اور ان اعمال صالحہ میں سے اعلیٰ عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے جو نیت صالحہ سے ہو۔ایسی صورت میں جہاد قتل مومن جیسے عظیم گناہ کا بھی کفارہ بن جاتا ہے۔یہ تعلق ہے اس باب کا سابقہ ابواب سے جن کا موضوع فضیلت جہاد ہے جو ان الفاظ سے ظاہر ہے : يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ اور أَكْرَمَهُ اللهُ عَلَى يَدَيَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ - رضاء الہی سے بڑھ کر اور کوئی نعمت نہیں اور ان ہر دو حدیث کے حصوں سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ مجاہد فی سبیل اللہ سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاتا ہے۔