صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 197
صحيح البخاری جلده 192 ۵۶ - كتاب الجهاد والسير ۲۸۳۰ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۸۳۰: بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ عَنْ (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔عاصم نے ہمیں حَفْصَةَ بِنْتِ سِيْرِيْنَ عَنْ أَنَسِ بْنِ بتایا۔انہوں نے حفصہ بنت سیرین سے حفصہ نے مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعُوْنُ انسؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ۔طرفه ٥٧٣٢ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ : اَلْقَتل کا ال معهو ذ ہنی ہے اور مراد شہادت ہے۔اس شہادت کے سوا سات شہادتیں زیر بحث ہیں۔باب ۳۰ کے تحت جو روایتیں منقول ہیں ان میں تو ان کی تعداد صرف چار بتائی گئی ہے۔امام ابن حجر اور بعض دیگر شارحین کی رائے ہے کہ امام بخاری کے نزدیک یہ تعداد بطور حصر نہیں۔چنانچہ صحیح بخاری کی احادیث میں ہے: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ( كتاب المظالم، باب ۳۳) پھر شہادت کی کچی آرزو بھی شہادت ہے۔(دیکھئے باب ) وعلی ہذا القیاس وہ بھی شہید ہے جو سواری سے گر کر مر جائے (روایت نمبر ۲۸۷۸) اور وہ عورت بھی جس کی موت نفاس میں واقع ہو۔(سنن النسائی، کتاب الجهاد،باب مسئلة الشهادة) امام ابن حجر نے میں قسم کی موتیں شہادت کی فہرست میں شمار کی ہیں۔لیکن یہ سب وہ شہادت کی موتیں ہیں جو قتل فی سبیل اللہ کی نوعیت والی نہیں بلکہ اس سے الگ قسم کی شہادتیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امام ابن حجر وغیرہ نے شہادت کی دو بڑی قسمیں بیان کی ہیں۔ایک دنیا کی اور دوسری آخرت والی۔ایسی موت جس سے شدت مرض کی وجہ سے بیمار سخت تکلیف اُٹھائے یا نا گہانی موت ہو تو یہ بھی شہادت میں داخل ہے۔صبر آزما موت یا اچانک موت گناہوں کے کفارہ کا سبب ہوتی ہے اس لئے وہ شہادت ہی کے درجہ میں شمار ہوگی۔کیونکہ شہید فی سبیل اللہ محاسبہ سے آزاد ہو جاتا ہے۔اُخروی شہادت کی نوعیت اور اس کا درجہ بالکل الگ ہے۔امام ابن حجر نے لفظ شہادت کی وجہ تسمیہ میں شارحین کے مختلف اقوال نقل کیے ہیں۔یہ سب تو جیہات اپنے مفہوم کے لحاظ سے درست ہیں اور شہید فی سبیل اللہ ان سب تو جیہات کا مصداق قرار پاتا ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳ ۵ تا ۵۵ - شہید کی ایک بڑی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اسے موت کے معا بعد خدا تعالیٰ کا دیدار اور ملاقات نصیب ہو جاتی ہے۔وصال الہی کے لئے اسے کسی اور مر حلے یعنی برزخ وغیرہ سے گذرنا نہیں پرتا۔دیکھئے باب ۲۰،۱۴۹۔یہ وہ خصوصیت ہے جس سے شہید فی سبیل اللہ ممتاز کیا جاتا ہے۔مقام شہادت پر نہایت لطیف تشریح کے لیے تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تفسیر سورۃ النساء آیت سے بھی دیکھئے۔