صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 194 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 194

صحيح البخارى جلده ۱۹۴ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير تَدَلَّى عَلَيْنَا مِنْ قَدُومِ ضَأْنٍ يَنْعَى ہے۔ابھی ضان پہاڑی کی چوٹی پر سے بکریاں چراتا عَلَيَّ قَتْلَ رَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْرَمَهُ اللهُ ہمارے پاس آ گیا ہے مجھ پر عیب لگا تا ہے کہ میں نے عَلَى يَدَيَّ وَلَمْ يُهِنِّي عَلَى يَدَيْهِ قَالَ ایک مسلمان مرد کو قتل کر دیا تھا جس کو اللہ نے میرے فَلَا أَدْرِي أَسْهَمَ لَهُ أَمْ لَمْ يُسْهِمْ لَهُ ہاتھ سے عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں رسوا نہیں کیا۔سفیان کہتے تھے: میں نہیں جانتا کہ آپ قَالَ سُفْيَانُ وَحَدَّثَنِيْهِ السَّعِيْدِيُّ عَنْ نے ان کو حصہ دیا یا نہیں۔سفیان نے کہا: یہ حدیث جَدِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ ( عمرو بن كي ) سعیدی نے مجھ سے روایت کی۔انہوں السَّعِيْدِيُّ هُوَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ نے اپنے دادا سے، ان کے دادا نے حضرت ابو ہریرہ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ سے۔ابوعبدالله (امام بخاریؒ) نے کہا: یہ سعیدی عمر و بن يحي بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔اطرافه ٤٢٣٧ ٤٣٨ ٤٢٣٩ تشریح اَلْكَافِرُ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ فَيُسَدِدُ بَعْدُ وَيُقْتَلُ : امام ابن حجر کا خیال ہے کہ عنوان باب سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری نے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو امام احمد بن حنبل، نسائی اور حاکم نے بسند حضرت ابو ہریرۃ مرفوعا نقل کی ہے۔اس کے یہ الفاظ ہیں : لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ وَقَارَبَ آگ میں دو شخص اکٹھے نہیں ہوں گے۔وہ مسلمان جس نے کسی کا فر کو قتل کیا ہو اور پھر صراط مستقیم پر قائم ہو گیا ہو اور اللہ تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو۔ایسا شخص جہنم میں داخل نہ ہوگا۔يُسَدِدُ کے معنی ہیں يَعِيشُ عَلَى سدَادٍ أَي اسْتِقَامَةِ فِي الدِّينِ - استقامت پر زندگی بسر کی۔(فتح الباری جزء ۱ صفحه ۴۹) امام بخاری کی روایت کے الفاظ بلحاظ مفہوم دیگر محدثین کی روایت کے مفہوم سے مختلف ہیں۔ان کی روایت سے ظاہر ہے کہ وہ کافر بھی جہنم میں نہیں جائے گا جو کفر کی حالت میں مسلمان کا قاتل ہو۔لیکن اس کے بعد اس کو ایسی توبه و استقامت نصیب ہوئی ہو کہ وہ آخر اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہادت کا شرف حاصل کرے۔مذکورہ بالا واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ نعمان بن مالک ( بن ثعلبہ بن احرم بن فہم بن ثعلبہ بن غنم اوسی ) انصاری ہیں اور غزوہ اُحد میں ابان بن سعید کے ہاتھ سے شہید ہوئے۔نعمان کے دادا کا لقب قوقل تھا جن کی طرف حضرت ابو ہریرہ نے انہیں منسوب کیا ہے۔ابان جو صلح حدیبیہ کے بعد غزوہ خیبر سے قبل مسلمان ہو گئے تھے۔نعمان سے متعلق بغوی کی ایک روایت ہے جس میں ان کے یہ الفاظ مروی ہیں جو انہوں نے غزوہ اُحد میں کہے تھے : أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَبِّ أَن لَّا تَغِيْبَ الشَّمْسُ حَتَّى أَطَاً بِعَرْجَتَيِ فِي الْجَنَّةِ -اے میرے رب ! تیری ہی قسم ہے ابھی سورج غروب نہیں ہوگا کہ نسائي، كتاب الجهاد، باب فضل من عمل في سبيل الله على قدمه (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين مسند أبي هريرة، جزء ۲ صفحه ۳۴۰) (المستدرك على الصحيحين، كتاب الجهاد، جز ۲ صفحه ۸۲)