صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 179
صحيح البخاری جلده 129 ۵۶ - كتاب الجهاد والسير دَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ان لوگوں کے خلاف جنہوں نے بئر معونہ والوں عَلَى الَّذِيْنَ قَتَلُوْا أَصْحَابَ بِثْر مَعُوْنَةَ ( یعنی ستر قاریوں ) کو مار ڈالا تھا، تمہیں دن تک صبح کے ثَلَاثِيْنَ غَدَاةَ عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وقت دعا کی۔یعنی رعل، ذکوان اور عصیہ پر۔ان ( قبیلوں) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُوْلَهُ قَالَ حضرت انس کہتے تھے : ان لوگوں کے بارے میں جو أَنَسٌ أُنْزِلَ فِي الَّذِينَ قُتِلُوا بِئْرٍ مَعُوْنَةَ بئر معونہ میں قتل کئے گئے قرآن نازل ہوا تھا۔ہم اسے قُرْآنٌ قَرَأْنَاهُ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ بَلِّغُوا پڑھتے رہے پھر اس کے بعد ترک ہو گیا۔یعنی یہ کہ قَوْمَنَا أَنْ قَدْ لَقِيْنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ وَرَضِيْنَا عَنْهُ عنا ہماری قوم کو یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آملے ہیں وہ ہم سے راضی ہوا ہم اس سے راضی ہو گئے۔اطرافه: ۱۰۰۱، ۱۰۰۲، ۱۰۰۳، ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۳۰٦٤، ۳۱۷۰، ٤٠٨٨، ٤٠٨٩، ٤٠٩٠، ٤، ٤٠٩٥، ٤٠٩٦، ٦٣٩٤، ٧٣٤١۰۹٤، ٤۰۹۲ ،۱۰۹۱ ٢٨١٥: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۲۸۱۵ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ جَابِرَ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرہ سے روایت ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولُ کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما اصْطَبَحَ نَاسٌ الْخَمْرَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ سے سنا۔وہ کہتے تھے: اُحد کی جنگ میں کچھ لوگوں نے ایک صبح شراب پی۔پھر وہ میدانِ جنگ میں ہی قتل ذَلِكَ الْيَوْمِ قَالَ لَيْسَ هَذَا فِيْهِ۔قُتِلُوْا شُهَدَاءَ فَقِيْلَ لِسُفْيَانَ مِنْ آخِرِ کئے گئے۔سفیان سے پوچھا گیا: کیا ( یہ الفاظ روایت میں ہیں کہ ) اس دن پچھلے وقت میں ( قتل ہوئے؟) اطرافه: ٤٠٤٤ ٤٦١٨۔تشریح انہوں نے کہا: یہ تو اس روایت میں نہیں۔وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا: معنونہ آیتوں میں شہداء فی سبیل اللہ زندہ قرار دیئے گئے ہیں۔جنہیں ان کے رب کے پاس رزق ملتا ہے جس سے وہ خوش و خرم ہیں اور ان کے ہم مذہبوں کے بارہ میں انہیں بشارتیں دی جاتی ہیں جس سے ان کو تسلی ہوتی ہے کہ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت فراواں اور اس کے فضل عظیم سے سرفراز ہوئے۔اس تعلق میں تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مصلح موعود ہے، تفسیر سوره مریم آیت ۱۶، جلد ۵ صفحه ۱۴۹-۱۵۱ بھی دیکھئے جہاں آپ نے تفصیل سے بتایا ہے کہ کس طرح سے ان کی شہادت سلامتی نعمت اور فضل عظیم کا سبب ہوئی۔