صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 176
صحيح البخاری جلده 124 ۵۶ - كتاب الجهاد والسير جُهْدَهُ وَاسْتَنْفَدَ وُسْعَهُ۔حدیث مذکورہ باب میں اللہ کے راستے میں جدو جہد کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کیونکہ جب فی سبیل اللہ سفر کرتے ہوئے قدموں پر غبار پڑنے سے نار جہنم حرام ہو جاتی ہے تو اس شخص کی کتنی عظمت ہوگی جو اپنی پوری قوت، طاقت اور کوشش سے خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں لگ جاتا ہے۔بعض اور روایات بھی کتب حدیث میں آئی ہیں جو اس حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہیں۔چنانچہ طبرانی نے اپنی کتاب اوسط میں حضرت ابو دردا کی مرفوع حدیث نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللهِ بَاعَدَ اللهُ مِنْهُ النَّارَ مَسِيرَةَ أَلْفَ عَامٍ لِلرَّاكِبِ الْمُسْتَعْجِل۔یعنی جس کے پاؤں اللہ کی راہ میں غبار آلود ہوئے اللہ اس سے نار جہنم کو اتنے فاصلے پر دور کر دے گا جتنا فاصلہ ایک تیز رفتار سوار ایک ہزار سال میں کر سکتا ہے۔ابن حبان نے بھی حضرت جابز کی ایک اور روایت انہی معنوں میں نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء۶ صفحہ ۳۸) یہ روایت بظاہر ایسے زمانے کی معلوم ہوتی ہے جب اخروی عذاب و ثواب مبالغہ آمیز تمثیلوں سے بیان کرنا جائز سمجھا جانے لگا۔امام بخاری نے دونوں ابواب سے جہاں جہاد کا مفہوم واضح کیا ہے وہاں مذکورہ روایتوں کی صحت لفظی بھی مدنظر ہے۔باب ۱۷ : مَسْحُ الْعُبَارِ عَنِ الرَّأْسِ فِي سَبِيلِ اللهِ اللہ کی راہ میں جن لوگوں پر گرد پڑی ہو ان سے گرد پونچھنا ۲۸۱۲ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۲۸۱۲ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا۔أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عبدالوہاب ( ثقفی) نے ہمیں خبر دی۔خالد ( حذاء) عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاس قَالَ لَهُ نے ہمیں بتایا، کہا :) عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت وَلِعَلِي ابْنِ عَبْدِ اللهِ انْتِيَا أَبَا سَعِيدٍ عبداللہ بن عباس نے ان سے اور ( اپنے بیٹے ) علی بن فَاسْمَعَا مِنْ حَدِيْثِهِ فَأَتَيَا وَهُوَ عبداللہ سے کہا: حضرت ابوسعید (خدری) کے پاس جاؤ اور ان کی بات سنو۔ہم نے ان کے پاس آئے اور وہ اور ان کا بھائی اپنے ایک باغ میں تھے جسے وہ پانی دے رہے تھے۔جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو وہ نَنْقُلُ لَبنَ الْمَسْجِدِ لَبِنَةٌ لَبِنَةٌ وَكَانَ آئے اور گوٹھ مار کر بیٹھ گئے اور انہوں نے کہا: ہم عَمَّارٌ يَنْقُلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ مسجد نبوی بنتے وقت اینٹیں ایک ایک کر کے لاتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ عَنْ تھے اور عمار بن یاسر) دودو اینٹیں اُٹھا کر لاتے تھے۔وَأَخُوْهُ فِي حَائِطٍ لَهُمَا يَسْقِيَانِهِ فَلَمَّا رَآنَا جَاءَ فَاحْتَبَى وَجَلَسَ فَقَالَ كُنَّا ے عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ الناس ہے۔(عمدۃ القاری جز ۴ صفحہ ۱۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ فائیناہ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۴ صفحہ ۱۰۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔