صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 174 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 174

صحيح البخاری جلده ۱۷۴ ۵۶ - کتاب الجهاد والسير شکست مراد ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۚ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَّمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ) (التوبة: ٤٠) اگر تم رسول کی مدد نہ کرو تو یاد رکھو اللہ اس کی اس وقت بھی مدد کر چکا ہے جبکہ اسے کافروں نے دو میں سے ایک کی صورت میں نکال دیا تھا۔جبکہ وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی (ابوبکر) سے کہہ رہا تھا کہ کسی گذشتہ پھول چوک پر غم نہ کرو۔اللہ یقیناً ہمارے ساتھ ہے۔پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نہیں دیکھتے تھے اور ان لوگوں کی بات کو نیچا کر دیا جنہوں نے کفر کیا تھا اور اللہ ہی کی بات اونچی ہو کر رہتی ہے اور اللہ بڑا غالب (اور) حکمت والا ہے۔اس آیت میں كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا سے مراد غلبہ حق ہے۔بَاب ١٦ : مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ اللہ کی راہ میں جس کے پاؤں غبار آلود ہوں (اس کا ثواب) وَقَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: مَا كَانَ لِأَهْلِ نیز اللہ عزوجل کے ارشاد کا ذکر : { اہل مدینہ کے لیے اور الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْأَعْرَابِ ان کے ارد گرد بسنے والے بادیہ نشینوں کے لیے جائز اَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ وَلَا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے رہ جاتے اور نہ ہی يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ یہ مناسب تھا کہ اس کی ذات کے مقابل پر اپنے آپ کو پسند کر لیتے ( یہ نفوس کی قربانی لازم تھی کیونکہ حقیقت بِأَنَّهُمْ لَا يُصِيبُهُمْ ظَمَا وَلَا نَصَبٌ یہی ہے کہ انہیں اللہ کی راہ میں کوئی پیاس اور کوئی وَلَا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا يَطَئُونَ مشقت اور کوئی بھوک کی مصیبت نہیں پہنچتی اور نہ ہی مَوْطِئًا تَغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ وہ ایسے رستوں پر چلتے ہیں جن پر (ان کا ) چلنا کفار کو مِنْ عَدُةٍ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِه غصہ دلاتا ہے اور نہ ہی وہ دشمن سے ( دورانِ قتال) عَمَلٌ صَالِحٌ اِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ کچھ حاصل کرتے ہیں مگر ضرور اس کے بدلے اُن أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبة: ١٢٠) کے حق میں ایک نیک عمل لکھ دیا جاتا ہے۔اللہ احسان کرنے والوں کا اجر ہرگز ضائع نہیں کرتا۔} ۲۸۱۱ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۲۸۱۱ اسحق بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ محمد مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بن مبارک نے ہمیں خبر دی کہ یحی بن حمزہ نے ہم سے