صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 173 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 173

صحيح البخاری جلده ۱۷۳ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير حضرت انس کی پھوپھی ۔ لفظ ام قتادہ کی طرف سے زیادتی ہے۔ اسی طرح الفاظ ”بنتُ الْبَرَاء“ بھی ۔ امام ابن حجر نے یہ اشکال حل کیا ہے اور بتایا ہے کہ حضرت براء بن مالک حضرت انس بن مالک کے بھائی تھے اور یہ دونوں مالک بن نضر کے بیٹے ہیں جو ربیع کے بھائی تھے۔ تر ندگی اور ابن خزیمہ نے یہی روایت بحوالہ سعید بن ابی عروبہ قتادہ سے نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكِ أَنَّ الرُّبَيعَ بِنْتَ النَّضْرِ أَتَتِ النَّبِيُّ اللهِ وَكَانَ ابْنُهَا حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ كَانَ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ * اسماء الرجال کی کتب میں بھی یہ ذکر ہے کہ ام حارثہ کا نام ربیع ہے جو نضر کی بیٹی تھیں اور حضرت انس بن مالک کی پھو پھی ۔ اس لئے امام بخاری پر یہ اعتراض درست نہیں کہ انہیں مغالطہ ہوا ہے۔ امام بخاری نے شیبان کی روایت کو سعید کی روایت پر ترجیح دی ہے کہ اول الذکر میں صراحت ہے کہ قتادہ نے حضرت انس سے یہ واقعہ سنا اور بیان کیا اور دوسری روایت کو نظر انداز کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۳-۳۴) بَاب ١٥ : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُوْنَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا جو اس لئے لڑے کہ اللہ ہی کا بول بالا ہو عنہ ۲۸۱۰ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۲۸۱۰ : سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي وَائِل نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن مرہ) سے، عمرو نے عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ) جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ﷺ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص نبی وَسَلَّمَ فَقَالَ الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلْمَغْنَمِ صل اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ) وَالرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِلذِكْرِ وَالرَّجُلُ يُقَاتِل کوئی شخص تو غنیمت کے لئے لڑتا ہے اور کوئی شخص لِيُرَى مَكَانُهُ فَمَنْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ قَالَ ناموری کے لئے لڑتا لئے لڑتا ہے اور کوئی شخص اس لئے لڑتا ہے کہ اپنی قوت دکھائے تو اللہ کی راہ میں کون لڑتا مَنْ قَاتَلَ لِتَكُوْنَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس لئے لڑے کہ اللہ ہی کا فَهُوَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ ۔ اطرافه ١۲۳، ٣١٢٦، ٧٤٥٨۔ بول بالا ہو تو وہی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے۔ تشريح : مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا: عمل صالح کے لئے نیت صالح پہلی شرط ہے۔ جیسا کہ باب ۱۳ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے ۔ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا سے حق کا غلبہ اور باطل کی (ترمذی، کتاب التفسير، من سورة المؤمنين) التوحيد لابن خزيمة، ذكر أخبار رؤيت في حرمان الجنة، جزء اول، صفحه ۵۵۸)