صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 166 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 166

صحيح البخاری جلده قول علی وجہ البصیرت تھا۔انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ۵۶ - كتاب الجهاد والسير " ٹھوکروں کے سبب سے دنیا پر افسوس ہے کیونکہ ٹھوکروں کا ہونا ضرور ہے۔“ اسی طرح ابن آدم بھی ان کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا۔“ (متی باب ۱۸، آیت ۷ ) ( متی باب ۱۷، آیت ۱۲) اس وقت لوگ تم کو ایذا دینے کے لئے پکڑوائیں گے اور تم کو قتل کریں گے اور میرے نام کی خاطر سب قومیں تم سے عداوت رکھیں گی۔مگر جو آخر تک برداشت کرے گا وہ نجات پائے گا۔“ (متی باب ۲۴ ، آیات ۹ تا ۱۳) آزمائش کے متعلق یہی سنت اللہ ہے جو اس وقت سے کہ حضرت آدم علیہ السلام خلافت سے سرفراز فرمائے گئے اب تک جاری ہے۔اس تعلق میں کتاب مواقیت الصلاۃ باب کی تشریح بھی دیکھئے۔إحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ سے مراد غلبہ و اقبال یا جام شہادت اور آخرت کا ثواب ہے مگر دشمن حق کے لئے سوائے نا کامی در سوائی کے اور کوئی دوسری صورت نہیں۔اِن اَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهَهِ : خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِين ) (الحج : ۱۲) { اگر اسے کوئی ابتلاء آئے تو وہ منہ پھیر لیتا ہے۔وہ دنیا بھی گنوا بیٹھا اور آخرت بھی۔یہ تو بہت کھلا کھلا نقصان ہے۔} بَابِ ۱۲ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ل (الأحزاب: ٢٤) اللہ عزوجل کا فرمانا: مومنوں میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے اپنے اس عہد کو سچا کر دکھایا ہے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا تھا اور ان میں سے بعض نے اپنی نذر پوری کر دی اور بعض انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں انہوں نے کسی قسم کی تبدیلی نہیں آنے دی ٢٨٠٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ :۲۸۰۵ محمد بن سعید خزاعی نے ہم سے بیان کیا کہ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنْ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید سے روایت حُمَيْدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا ح۔حَدَّثَنَا کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا۔