صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 133
صحیح البخاری جلده ۱۳۳ ۵۵- كتاب الوصايا وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ کے مطابق دیں یا اس بات سے ڈریں کہ ان کی قسموں ( المايدة : (۱۰۷ - ۱۰۹) کے بعد کوئی اور قسمیں ان کی قسموں کو رڈ کرنے کے لئے پیش کی جائیں اور اللہ کا تقوی اختیار کرو اور اس کے حکموں کی اچھی طرح اطاعت کرو اور یا درکھو کہ اللہ سرکشوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ الْأَوْلَيْنِ وَاحِدُهُمَا أَوْلَى الْأَوْلَيَانِ کی واحد اولی ہے یعنی حق دار۔ اس سے وَمِنْهُ أَوْلَى بِهِ ۔ عَيْرَ ظُهِرَ ۔ أَعْثَرْنَا اَولی پہ ہے یعنی وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ غیر کے معانی ہیں کھل گیا ، ظاہر ہو گیا۔ اَعْتَرُنا کے معانی ہیں أَظْهَرْنَا ۔ ہم نے کھول دیا، ظاہر کر دیا۔ ۲۷۸۰ : وَقَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۲۷۸۰: (امام بخاری نے کہا:) مجھ سے علی بن عبد الله حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ مدینی نے کہا: ہم سے بھی بن آدم نے بیان کیا کہ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ ابوزائدہ کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد بن ابی قاسم سے محمد نے عبدالملک بن سعید بن جبیر سے، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عبدالملک نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عَنْهُمَا قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْم ابن عباس نے کہا: بنی سہم کا ایک شخص تمیم داری اور مَعَ تَمِيمِ الدَّارِيِّ وَعَدِيِّ بْنِ بَدَاءٍ عدى بن بداء کے ساتھ سفر کو نکلا تو وہ سہی شخص ایسے فَمَاتَ السَّهْمِيُّ بِأَرْضِ لَيْسَ بِهَا ملک میں فوت ہوا جس میں کوئی مسلمان نہ تھا۔ جب مُسْلِمٌ فَلَمَّا قَدِمَا بِتَرِكَتِهِ فَقَدُوا جَامًا وہ دونوں اس کا متروکہ مال لائے تو اس کے وارثوں مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا مِنْ ذَهَبٍ فَأَحْلَفَهُمَا نے ایک چاندی کا چاندی کا گلاس گم الم پایا۔ جس پر سونے کا کام ہوا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ کو تم دی (انہوں نے قسم کھالی) پھر اس کے بعد وہی وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ فَقَالُوا ابْتَعْنَاهُ مِنْ گلاس مکہ میں پایا گیا۔ جن کے پاس ملا انہوں نے کہا: تَمِيمٍ وَعَدِيٌّ فَقَامَ رَجُلَانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ ہم نے تمیم اور عدی سے اسے خریدا ہے تو اس میت کے