صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 123
صحيح البخاری جلده ۱۴۳ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ۲۷ : إِذَا وَقَفَ جَمَاعَةٌ أَرْضًا مُشَاعًا فَهُوَ جَائِزٌ اگر ایک جماعت مشتر کہ زمین ( جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو ) وقف کر دے تو یہ وقف جائز ہوگا ۲۷۷۱: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۷۷۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوالتیاح ( یزید بن حمید ) أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ ہے، یزید نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ کی کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم دیا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُوْنِي بِحَائِطِكُمْ اور فرمایا: اے بنی نجار ! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی هَذَا قَالُوْا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ قیمت کا فیصلہ کر لو۔ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں۔ خدا کی إِلَّا إِلَى اللهِ ۔ قسم ! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے۔ اطرافه ٢٣٤ ، ٤٢٨ ٢٩ ، ١٨٦٨، ۲۱۰٦، ۲۷۷، ۲۷۷۹، ۳۹۳۲ تشريح : إِذَا وَقَفَ جَمَاعَةٌ أَرْضًا مُشَاعًا فَهُوَ جَائِز: حضرت امام مام مالک وقف مشاع کے قائل نہیں ہیں۔ تاکسی شریک کو نقصان نہ پہنچے۔ پہنچے۔ لیکن مطلق وقف ان کے نزدیک جائز ہے اور اگر کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کی تلافی کی جاسکتی ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۴ صفحہ ۶۷) اس تعلق میں باب ۱۶ کی تشریح بھی دیکھئے۔ باب ۲۸ : الْوَقْفُ كَيْفَ يُكْتَبُ وقف کیسے لکھا جائے ۲۷۷۲ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ۲۷۷۲ : مسدد ( بن مسرہد ) نے ہم سے بیان کیا کہ ابْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ يزيد بن زُریع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: عبد اللہ ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بن عون نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے أَصَابَ عُمَرُ بِخَيْبَرَ أَرْضًا فَأَتَى النَّبِيَّ (حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت عمر نے خیبر میں ایک زمین لی اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَصَبْتُ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے أَرْضًا لَّمْ أَصِبْ مَالًا قَطُّ أَنْفَسَ مِنْهُ الی زمین پائی ہے کہ اس سے زیادہ عمدہ کبھی نہیں پائی فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي بِهِ قَالَ إِنْ شِئْتَ تو آپ اس کی نسبت مجھے کیا مشورہ دیتے ہیں؟ آپ