صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 111
صحيح البخاری جلده 111 ۵۵- كتاب الوصايا تُوُفِّيَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا فَهَلْ يَنْفَعُهَا میری والدہ فوت ہوگئی ہیں اور میں اس وقت ان کے شَيْءٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ پاس موجود نہ تھا۔ تو کیا میرا ان کی طرف سے کچھ صدقہ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّ حَائِطِيَ کرنا ان کو نفع دے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ ! ) پھر میں آپ کو گواہ ٹھہراتا ہوں الْمِخْرَافَ صَدَقَةٌ عَلَيْهَا ۔ اطرافه: ٢٧٥٦، ٢٧٧٠ کہ میرا باغ مخراف ان کی طرف سے صدقہ ہے۔ تشريح : الْإِشْهَادُ فِي الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ: وقف بھی ایک قسم کا صدقہ ہے، اس لئے باب میں ان دونوں کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ بعض فقہاء نے کہا ہے کہ وقف ۔ ا ہے کہ وقف سے متعلق صرف اعلان ہی کافی ہے۔ تحریر اور شہادت وغیرہ کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے قول اُشْهِدُكَ میں اِشْهَاد بمعنی اعلام لیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے باقاعدہ شہادت مراد نہیں۔ مہلب نے وقف میں شہادت ضروری سمجھی ہے اور اس کے لئے آیت وَ أَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمُ (البقرة: ۲۸۳) سے استدلال کیا ہے کہ بیچ میں عوض معاوضہ ہوتا ہے۔ پس جب معاملات بیچ میں جو مبادلہ کی صورت ہے شہادت ضروری قرار دی گئی ہے تو وقف میں بدرجہ اولی ضروری ہونی چاہیے کیونکہ اس میں سوائے ثواب کے اور کوئی معاوضہ نہیں ہوتا اور وقف سے پھر جانے کا بھی احتمال ہو سکتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحہ ۴۷۸) بَاب ۲۱: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَأتُوا الْيَتَنَى أَمْوَالَهُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَيْثَ بِالطَّيِّبِ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا تم یتیموں کو ان کے مال دے دو اور پاک مال کے بدلہ میں نا پاک مال نہ لو وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ اور ان کے مال اپنے مالوں سے ملا کر نہ کھاؤ۔ یہ یقیناً إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا وَإِنْ خِفْتُم بڑا گناہ ہے اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ تم یتیموں کے أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَى فَانْكِحُوا بارہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورت تمہیں پسند ہو مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ (النساء : ٣-٤) تم اس سے نکاح کرلو۔ ( یعنی غیر یتیم عورتوں میں سے ) ٢٧٦٣ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۷۶۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ عُرْوَةُ ہمیں خبر دی۔ انہوں نے زہری سے ،انہوں نے کہا کہ ابْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عروہ بن زبیر بیان کرتے تھے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا رضی اللہ عنہا سے پوچھا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَن لَّا تُقْسِطُوا