صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 100 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 100

صحيح البخاری جلده ۱۰۰ ۵۵- كتاب الوصايا ماں صلیبی رشتہ دار نہ ہونے کی وجہ سے اس میں شامل نہیں، لیکن ابن القاسم کے نزدیک ماں تو شامل ہے لیکن ماں کی بہنیں شامل نہیں۔ امام طحاوی نے اس اختلاف کے بارے میں پانچ اقوال نقل کر کے امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے مذہب کو باقی ا لو باقی اقوال پر ترجیح دی ہے کہ لفظ الاقربین سب رشتہ داروں پر حاوی ہے جو ماں یا ۔ یا باپ کی طرف سے ہوں ، مسلم ہوں یا غیر مسلم ، مرد ہو یا عورت۔ (عمدۃ القاری جزء ۴ صفحہ ۴۷ ، ۴۸ ) اس تعلق میں گذشتہ باب کی تشریح بھی دیکھئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انْذِرُ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ میں مرد و عورت کے نزدیک کے سب رشتہ داروں کو شامل کیا ہے۔ والدین کو وصیت سے مستثنیٰ کرنے کے بارے میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ اُن کا شمار اہل میراث میں ہے ۔ اسی لئے آیت اِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ (البقرۃ: ۱۸۱) میں والدین کا الگ ذکر کر کے الأَقْرَبِينَ کو الْوَالِدَيْنِ پر عطف کیا ہے اور ظاہر ہے کہ معطوف معطوف علیہ سے جدا ہوتا ہے۔ باب ۱۲ : هَلْ يَنْتَفِعُ الْوَاقِفُ بِوَقْفِهِ کیا وقف کرنے والا اپنے وقف سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟ وَقَدِ اشْتَرَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( وقف میں ) یہ شرط جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا لگائی کہ جو اُس کا متولی ہو اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ وَقَدْ يَلِي الْوَاقِفُ وَغَيْرُهُ۔ وَكَذَلِكَ كُلُّ اِس میں سے کھائے اور خود وقف کرنے والا اور اس مَنْ جَعَلَ بَدَنَةً أَوْ شَيْئًا لِلَّهِ فَلَهُ أَنْ کے سوا دوسرے بھی 1 ے بھی اس کے متولی ہو سکتے ہیں۔ اور اسی طرح جس نے اللہ کے لئے قربانی کا اونٹ یا يَنْتَفِعَ بِهَا كَمَا يَنْتَفِعُ بِهَا غَيْرُهُ وَإِنْ لَّمْ کوئی چیز وقف کر دی تو اس کے لئے جائز ہے کہ اس يَشْتَرِطْ۔ سے فائدہ اُٹھائے جیسا کہ اس سے دوسرا فائدہ اُٹھاتا ہے گو واقف نے ایسی شرط نہ بھی کی ہو۔ ٢٧٥٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۲۷۵۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ ابوعوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسْوْقُ بَدَنَةً فَقَالَ ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کا اونٹ ہانکے لئے جارہا تھا۔ لَهُ ارْكَبْهَا فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّهَا آپؐ نے اس سے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ تو اُس نے ﷺ نے