صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 99 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 99

صحیح البخاری جلده ۹۹ ۵۵- كتاب الوصايا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے مجھے بتایا ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ که حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ عز وجل رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللهِ نے یہ آیت نازل کی: اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ أَنْزَلَ اور متنبہ کرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَاَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ اور آپ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ٢١٥) قَالَ يَا مَعْشَرَ اور کلمہ تم دنیا کو چھوڑ دو اور خدا کے دین کو قبول کر لو۔ قُرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا اشْتَرُوا (یاد رکھو) میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے حضور أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے عبدالمطلب کے مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بیٹے عباس ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔ اے صفیہ! جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ پھو پھی ہو؟ میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْ آسکتا اسے فاطمہ جو صلی للہ علیہ وسلم ک بیٹی ہے مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ تو میرے مال سے جو چاہے مانگ لے؛ میں اللہ کے سَلِينِي مَا شِئْتِ مِنْ مَّالِي لَا أُغْنِي حضور تیرے کچھ کام نہیں آسکتا۔ (ابوالیمان کی طرح) عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا۔ تَابَعَهُ أَصْبَغُ صبغ نے بھی یہی حدیث ابن وہب سے روایت کی ۔ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابن وہب نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے ابْنِ شِهَابٍ ۔ اطرافه: ٣٥٢٧، ٤٧٧١۔ روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بیان کی ۔ تشريح : هَلْ يَدْخُلُ النِّسَاءُ وَالْوَلَدُ فِي الْأَقَارِبِ اختلافی مسلہ ہونے کی وجہ سے عنوان باب استفتاء کی صورت میں ہے۔ لفظ الْوَلَد کا اطلاق بیٹے اور بیٹیوں اور لفظ النساء صلبی اقرباء پر اطلاق پاتا ہے جیسے بیٹی اور بہن۔ اس امر پر تو فقہاء کو اتفاق ہے۔ اگر وقف اقرباء کے لئے مقصود ہو تو یہ سب اس کے حاصلات سے فائدہ اُٹھانے کے شرعا مستحق ہیں۔ ماں کی شمولیت سے متعلق اختلاف ہے۔ بقول اشہب حضرت امام مالک کے نزدیک