صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 99
صحيح البخارى جلده رَضِيَ ۹۹ ۵۵ - كتاب الوصايا سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ سعيد بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ که حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب اللہ عزوجل اللهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللَّهِ نے یہ آیت نازل کی: اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ أَنْزَلَ اور متنبہ کرو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَاَنْذِرُ عَشِيرَتَكَ اور آپ نے فرمایا: اے قریش کے لوگو! یا ایسا ہی کوئی الْأَقْرَبِينَ (الشعراء: ٢١٥) قَالَ يَا مَعْشَرَ اور کلمہ تم دنیا کو چھوڑ دو اور خدا کے دین کو قبول کر لو۔قُرَيْشٍ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا اشْتَرُوا (یاد رکھو) میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔اے عبد مناف کے بیٹو! میں اللہ کے حضور أَنْفُسَكُمْ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔اے عبد المطلب کے يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بیٹے عباس ! میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا۔اے صفیہ ! جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا يَا صَفِيَّةُ پھوپھی ہو ، میں اللہ کے حضور تمہارے کچھ کام نہیں عَمَّةَ رَسُوْلِ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكِ آسکتا۔اے فاطمہ ! جومحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہے تو میرے مال سے جو چاہے مانگ لے میں اللہ کے مِنَ اللهِ شَيْئًا وَ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِيْنِي مَا شِئْتِ مِنْ مَّالِي لَا أُغْنِي حضور تیرے کچھ کام نہیں آسکتا۔(ابوالیمان کی طرح) عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا تَابَعَهُ أَصْبَغُ صبغ نے بھی یہی حدیث ابن وہب سے روایت کی۔عَنِ ابْنِ وَهْبِ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابن وہب نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے یہی حدیث بیان کی۔ابْنِ شِهَابٍ۔اطرافه: ٣٥٢٧، ٤٧٧١۔ریح: هَلْ يَدْخُلُ النِّسَاءُ وَالْوَلَدُ فِى الْأَقَارِبِ اختلافی مسئلہ ہونے کی وجہ سے عنوانِ باب استفتاء کی صورت میں ہے۔لفظ الولد کا اطلاق بیٹے اور بیٹیوں اور لفظ النساء صلبی اقرباء پر اطلاق پاتا ہے جیسے بیٹی اور بہن۔اس امر پر تو فقہاء کو اتفاق ہے۔اگر وقف اقرباء کے لئے مقصود ہو تو یہ سب اس کے حاصلات سے فائدہ اُٹھانے کے شرعا مستحق ہیں۔ماں کی شمولیت سے متعلق اختلاف ہے۔بقول اشہب حضرت امام مالک کے نزدیک