صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 93 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 93

صحيح البخاری جلده ۹۳ ۵۵- كتاب الوصايا ٢٧٥١ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۲۷۵۱ بشر بن محمد سختیانی نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ السَّخْتِيَانِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا (بن مبارک) نے ہمیں خبر دی ۔ (انہوں نے کہا:) یونس نے ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا يُؤْنُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کہ سالم نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (حضرت عبدالله) بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: میں الله سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے تم میں وَسَلَّمَ يَقُوْلُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ سے ہر کوئی نگہبان ہے اور جس چیز کی وہ نگہبانی کر رہا عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْإِمَامُ رَاعٍ وَمَسْئُوْلٌ ہے، اُس کے متعلق اُس سے پوچھا جائے گا۔ اور امام عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ بھی ایک نگہبان ہے۔ اُس سے بھی اُس کے ماتحت وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ فِي بَيْتِ لوگوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔ اور مرد اپنے گھر والوں زَوْجِهَا رَاعِيَةٌ وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا میں ایک نگہبان ہے اور اُس سے بھی اپنے خاندان کے متعلق پوچھا جا۔ وچھا جائے گا۔ اور عورت بھی اپنے خاوند کے گھر وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ میں نگہبان ہے اور اُس سے بھی اپنے گھر والوں کے عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ وَأَحْسِبُ أَنْ قَدْ قَالَ متعلق پوچھا جائے گا۔ اور خادم بھی اپنے آقا کے مال وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيْهِ۔ میں نگہبان ہے اور اُس کو بھی اُس کی اشیاء زیر نگرانی کے متعلق پوچھا جائے گا۔ (حضرت ابن عمر) کہتے تھے : اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مرد اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے۔ اطرافه: ٨٩٣، ٢٤٠٩، ٢٥٥٤ ، ٢٥٥٨ ، ٥١٨٨، ۵۲۰۰، ۷۱۳۸۔ تشريح : مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنِ : یہ باب بظاہر مکر معلوم ہوتا ہے مگر لفظ تأويل سے محولہ بالا آیت کی تفسیر بتانا مقصود ہے۔ سابقہ باب میں صرف یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ آیا وارث کے لئے وصیت کسی حالت میں کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اور یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ قرض کی ادائیگی تو واجب ہے اور صدقہ وغیرہ سے متعلق وصیت طوعی ہے۔ آیت کریمہ میں غیر واجب طوعی حکم کیوں مقدم کیا گیا ہے۔ قرضہ ایک امانت ہے اور اس کی ادائیگی کے بارے میں آیت اِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء : ۵۹) نص صریح ہے اور صدقات غیر واجب ہیں ؟ جیسا کہ اس بارہ میں ارشادِ نبوی عنوان باب میں مذکور ہے : لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرٍ غِنى -