صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 86 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 86

صحیح البخاری جلده ۸۶ ۵۵- كتاب الوصايا الفاظ میں صراحت کی ہے : فِي تَفْسِيرِهِ إِخْبَارٌ بِمَا كَانَ مِنَ الْحُكْمِ قَبْلَ نُزُولِ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ فِي حُكْمِ الْمَرْفُوعِ بِهَذَا التَّقْرِيرِ یعنی حضرت ابن عباس کی تفسیر میں یہ خبر دی گئی ہے کہ قرآنی حکم نازل ہونے سے قبل وصیت کی نسبت جو فیصلہ تھا وہ قابل عمل نہ رہا کیونکہ آیت وراثت کے ذریعہ ورثاء کا حصہ مقرر ہو چکا ہے اور لکھا ہے لَا يُجْمَعُ لَهُمَا رَأَى لِلْوَالِدَيْنِ) بَيْنَ الْمِيْرَاتِ وَالْوَصِيَّةِ وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ كَانَ مَنْ دُونِهِمَا أَوْلَى بِأَنْ لَّا يُجْمَعَ ذَلِكَ لَهُ۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۴۵۶) یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ والدین کو وراثت میں سے بھی حصہ ملے اور اُن کے لئے الگ وصیت بھی کی جائے اور جب والدین کے لئے دونوں باتیں جمع نہیں ہوسکتیں تو دوسرے وارثوں کے لئے بدرجہ اولی جمع نہیں ہوسکتیں۔ ایک تہائی وصیت کی جو اجازت ہے اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔ پہلی شرط غیر وارث اقرباء ( مثلاً غیر حقیقی ماں یا باپ اور اقرباء جو دارالحرب میں رہتے ہوں یا پوتا، پوتی وغیرہ جنہیں وراثت سے حصہ نہیں ملتا۔) ایسے غیر وارث کے لئے تہائی میں الگ وصیت کی جاسکتی ہے۔ دوسری شرط یہ ہے : إِن تَرَكَ خَيْرًا (البقرة: (۱۸) مال کثیر چھوڑے۔ علامہ بیضاوی اور دیگر اکابر مفسرین نے بھی دونوں آیتوں میں نسخ تسلیم نہیں کیا ہی مزید تفصیل کتاب الفرائض اور کتاب التفسیر میں دیکھی جائے۔ لِلْمَرْأَةِ الثُّمَنَ وَالرُّبعَ : ترکہ کا آٹھواں حصہ جب موصی کی اولاد ہو اور چوتھا حصہ جب اُس کی اولاد نہ ہو، عورت کے لئے ہوگا ۔ اسی طرح خاوند کے لئے نصف اُس وقت ہوگا جب اولاد نہ ہو اور چوتھا حصہ جب اولاد ہو۔ باب : الصَّدَقَةُ عِنْدَ الْمَوْتِ موت کے وقت صدقہ کرنا ٢٧٤٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۲۷۴۸ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری ) عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے، سفیان نے عمارہ ( بن قعقاع ) سے، عمارہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ ابوزرعہ سے، ابو زرعہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ سے روایت کی ۔ کہتے تھے: ایک شخص نے نبی صلی اللہ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ أَنْ تَصَدَّقَ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ ! کونسا صدقہ افضل وَأَنْتَ صَحِيحٌ حَرِيصٌ تَأْمُلُ الْغِنَى ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ صدقہ جو تم تندرستی کی حالت (تفسير البيضاوى، سورة البقرة آيت ۱۸۰: الوصية للوالدين والأقربين ) ( جامع البيان في تأويل القرآن للطبرى، سورة البقرة، آیت ۱۸۰)