صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 85 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 85

صحيح البخارى جلده ۸۵ ۵۵ - كتاب الوصايا مَا أَحَبَّ فَجَعَلَ لِلذَّكَرِ مِثْلَ حَظِّ والدین کے لئے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس دستور میں سے الْأُنْثَيَيْنِ وَجَعَلَ لِلْأَبَوَيْنِ لِكُلِّ وَاحِدٍ جو چاہا منسوخ کر دیا اور بیٹے کے لئے بیٹی کے حصہ مِنْهُمَا السُّدُسَ وَجَعَلَ لِلْمَرْأَةِ النُّمُنَ سے دو گنا حصہ مقرر فرمایا اور ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ رکھا اور بیوی کے لئے آٹھواں وَالرُّبُعَ وَلِلزَّوْجِ الشَّطْرَ وَالرُّبُعَ۔اطرافه: ٤٥٧٨ ٦٧٣٩ تشریح: یا چوتھا اور خاوند کے لئے آدھا یا چوتھا حصہ رکھا۔لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ : آیت وصیت مندرجہ زیر باب (البقرۃ:۱۸۱) مجمل ہے، منسوخ نہیں اور آیت فریضہ وصیت مندرجہ زیر باب ۸ (النساء : ۱۲-۱۳) اس کی تاریخ نہیں بلکہ شارح اور مفصل ہے۔حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ۲۷۴۷ میں لفظ منسوخ کا تعلق اُس دستور سے ہے جو پہلے رائج تھا، آیت سے نہیں۔زمانہ جاہلیت میں موصی جسے چاہتا دیتا تھا اور محولہ آیت کے نزول پر سابقہ دستور منسوخ ہوا۔اسی دستور کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص بھی اپنی مرضی سے ساری جائیداد صدقہ میں دینا چاہتے تھے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کی اجازت دی۔حضرت ابن عباس کا مذکورہ بالا قول ان معنوں میں قطعاً نہیں کہ آیت كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ (البقرۃ:۱۸۱) منسوخ ہے۔اُن کے قول میں نہ سورۃ النساء کی آیت کا ذکر ہے اور نہ سورۃ البقرہ کی آیت میں مذکور والدین اور اقرباء کے لئے وصیت کا حکم منسوخ ہوا ہے۔بلکہ اس میں اس کے برعکس اُن کے حصص کی تعیین وتفصیل ہے۔الفاظ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ مَا أَحَبَّ سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ دستور میں سے جن رشتہ داروں کو چاہا چھوڑ دیا اور جنہیں چاہا رکھا۔حضرت امام بخاری نے بھی عنوانِ باب میں لَا وَصِيَّةَ لِوَارِث کے الفاظ اختیار کر کے اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ چونکہ آیت مواریث میں ہر وارث رشتہ دار کا حصہ مقرر ہے، اس لئے موصی کا حق نہیں کہ اس تعین کے بعد وہ اپنی طرف سے کوئی الگ وصیت کرے بجز ایک تہائی مال کے، جس کی اُسے غیر وارث رشتہ داروں یا قرض کی ادائیگی کے لئے اجازت ہے اور اسی وضاحت کی غرض سے امام موصوف نے پہلے ایک تہائی وصیت کے تعلق میں ابواب قائم کئے ہیں پھر اس کے بعد باب لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثِ قائم کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثِ حجۃ الوداع کے موقع پر بھی فرمائے تھے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں کیونکہ اُس کا حصہ مقرر ہو چکا ہے۔یہ صرف غیر وارث کے لئے ایک تہائی میں سے وصیت کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ مواریث سے خارج ہے۔امام ابن حجر نے بھی مذکورہ بالا روایت کے تعلق میں ان لا ترجمه از حضرت خلیفة المسیح الرابع : " تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اگر وہ کوئی مال ( ورثہ ) چھوڑ رہا ہو تو وہ اپنے والدین کے حق میں اور رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق وصیت کرے۔(ترمذی ، کتاب الوصايا، باب ما جاء لا وصية لوارث)