صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 83 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 83

صحيح البخاری جلده ۸۳ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ٤ : قَوْلُ الْمُوْصِي لِوَصِيِّهِ تَعَاهَدْ وَلَدِي وَمَا يَجُوزُ لِلْوَصِيِّ مِنَ الدَّعْوَى وصیت کرنے والے کا اپنے وصی سے یوں کہنا کہ میری اولاد کا خیال رکھیں اور وصی کو دعویٰ کرنا جائز ہے صلى عليسة ٢٧٤٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۲۷۴۵: عبد الله بن مسلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ مالک سے، مالک نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عروہ بن زبیر سے، عروہ نے نبی ﷺ کی حرم حضرت شہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : عتبہ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عائشہ رضی أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی کا بیٹا میرا ہے، اُسے عَهِدَ إِلَى أَخِيْهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ لے کر اپنے پاس لے رکھنا۔ جس سال مکہ فتح ہوا تو ابْنَ وَلِيْدَةِ زَمْعَةَ مِنِّي فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ سعد نے اُسے لے لیا اور کہنے لگے: یہ میرا بھتیجا ہے۔ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ (میرے بھائی نے) اس کی نسبت مجھے وصیت کی تھی۔ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيْهِ فَقَامَ عبد بن زمعہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا: یہ میرا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے۔ میرے وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ فَتَسَاوَقَا إِلَى باپ کے بستر سے پیدا ہوا۔ تب دونوں مقدمہ فیصلہ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کے لئے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے۔ سعد نے کہا: سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِي كَانَ يا رسول اللہ ! یہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔ میرے بھائی نے مجھے اس کی بابت وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے عَهِدَ إِلَيَّ فِيْهِ فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ کہا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا أَخِي وَابْنُ وَلِيْدَةِ أَبِي فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبد بن زمعہ یہ لڑکا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ تیرے سپرد ہے کیونکہ بچہ اُسی کو ملتا ہے جس کی عورت ابْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ ہو اور زانی کو پتھر پڑتے ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ الْحَجَرُ ثُمَّ قَالَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ سے آپ نے فرمایا: تم اس سے پردہ کیا کرو۔ کیونکہ آپ احْتَجِبِي مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ نے اُس کی شکل و شباہت عتبہ سے ملتی جلتی دیکھی۔