صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 84 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 84

صحيح البخاری جلده ۸۴ ۵۵- كتاب الوصايا بِعُتْبَةَ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ ۔ چنانچہ اس لڑکے نے بھی حضرت سودہ کو پھر کبھی نہیں دیکھا، یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملا۔ إطرافه ۲۰۵۳، ۲۲۱۸ ٢٤۲۱، ٢٥٣٣، ٤٣٠٣، 6749، 6765، ٦٨١٧، ٧١٨٢۔ بَاب : إِذَا أَوْمَا الْمَرِيضُ بِرَأْسِهِ إِشَارَةً بَيِّنَةً جَازَتْ جب بیمار اپنے سر سے کھلم کھلا اشارہ کرے تو اُس اشارے کے مطابق حکم نافذ ہوگا ٢٧٤٦ : حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي ۲۷۴۶: حسان بن ابی عباد نے ہم سے ؟ نے ہم سے بیان کیا کہ ہمام عَبَّادٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ اس سے روایت کی کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ کا ر دو پتھروں سے کچل دیا (ابھی وہ لڑکی زندہ تھی ) بِكِ أَفُلَانٌ أَوْ فُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ اُس سے پوچھا گیا: تجھے کس نے مارا ہے؟ کیا فلاں فلاں نے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اُس نے الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا فَجِيْءَ بِهِ اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ تب وہ یہودی پکڑ کر فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى اعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ایا گیا اور تفتیش جاری رہی یہاں تک کہ اُس نے اقرار الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضٌ رَأْسُهُ کرلیا۔ اس پر نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اس سے بھی بِالْحِجَارَةِ۔ ایسا ہی کیا جائے ) تو اس کا سر بھی پتھر سے کچلا گیا۔ اطرافه ٢٤١٣، ٥٢٩٥، ٦٨٧٦ ، ٦٨٧٧، ٦٨٧٩، ٦٨٨٤، ٦٨٨٥۔ بَاب ٦ : لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثِ اس بیان میں کہ وارث کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی ٢٧٤٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۷۴۷ محمد بن یوسف (فریابی ) نے ہمیں بتایا۔ سے، عَنْ وَرْقَاءَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيْحٍ عَنْ انہوں نے ورقاء سے، ورقاء نے ابن ابی نجیح - عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا انہوں نے عطاء بن ابی رباح ) سے، عطاء نے حضرت قَالَ كَانَ الْمَالُ لِلْوَلَدِ وَكَانَتِ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ فَنَسَخَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ (ابتدائی زمانہ میں ) ترکہ اولاد کا ہوا کرتا تھا اور وصیت