صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 523
صحيح البخاری جلده ۵۲۳ ۵۸- كتاب الجزية والموادعة نہیں ہوگا۔ چنانچہ حضرت ابو بکر کے زمانہ میں ان سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا گیا۔ لیکن جب وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں شرارت کرنے لگے تو نکال دیئے گئے ۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ روایت نمبر ۳۱۶۷ میں مندرجہ واقعہ ان یہودیوں سے متعلق ہے جو قبائل بنو قینقاع اور بنو نضیر میں سے بعض شرائط پر مدینہ منورہ میں رہے اور جب ان سے شرائط اسے شرائط کی خلاف ورزی ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی جلا وطن کر دیا۔ آپ نے پہلے کوشش فرمائی کہ انہیں تبلیغ اسلام کی جائے جیسا کہ یہود کی درسگاہ میں جانے اور دعوت اسلام دینے سے ظاہر ہے۔ اس واقعہ میں حضرت ابو ہریرہ خود موجود تھے اور ان کا یہ بیان کردہ واقعہ بنو قینقاع اور بنونضیر کی جلا وطنی ۔ اجلا وطنی سے بہت بعد کا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ فتح ہے۔ حضرت ابو ہریرہ فتح خیبر کے بعد مدینہ میں آئے اور اسلام قبول کیا۔ ( فتح الباری جزء ۵ صفحه ۳۲۶) غزوہ خیبرے ھ میں ہوا۔ غزوہ بنو قینقاع ۲ ھ اور غزوہ بنو نضیر ۳ھ۔ بنو نضیر ھ کے اواخر میں اور غزوہ بنو قریظہ ریظہ ۵ھ میں ہوا۔ واقعات سے ظاہر ہے کہ یہود کی جلا وطنی تدریجا عمل میں آئی۔ اس عرصہ میں انہیں تبلیغ اسلام کی دعوت برابر ہوتی رہی اور ان میں سے بعض نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے اخلاص کا ثبوت دیا۔ لیکن باقیوں کی غداری ظاہر ہونے پر انہیں حسب معاہدہ آخر مدینہ چھوڑنا پڑا۔ اس کی تفصیل موقع پر آئے گی۔ یہاں یہ ذکر کر دینا فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ روایتوں میں اختصار ہے۔ اس لئے شبہ ہوتا ہے کہ ادھر سے اسلِمُوا کہا گیا اور اُدھر سے انکار ہوا اور انکار کرنے والے فوراً جلا وطن کر دیئے گئے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ خیبر مدینہ سے ۲۰۰ میل دور ہے اور یہودیان خیبر کی جلا وطنی ایک لمبے عرصہ کے بعد عمل میں آئی تھی۔ یعنی خلافت ثانیہ میں انہیں کافی مہلت دی گئی کہ وہ ایک نیک ہمسایہ کی طرح رہیں اور ان کی غداریاں معاف کی جاتی رہیں ۔ لیکن جب انہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا بدلا اور امن سے رہنا نہ چاہا تو نا چار انہیں نکالنا پڑا، جس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلے سے آگاہ کر دیا تھا۔ بَاب : إِذَا غَدَرَ الْمُشْرِكُوْنَ بِالْمُسْلِمِينَ هَلْ يُعْفَى عَنْهُمْ اگر مشرک مسلمانوں سے دعا کریں تو کیا ان سے درگزر کی جائے ٣١٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۳۱۶۹ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ لیث نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: سعید نے مجھ سے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فُتِحَتْ خَيْبَرُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله ہے کہ انہوں نے کہا جب خیر کی کیا تو ہی لی اللہ علیہ وسلم کو ایک بھنی ہوئی) بکری ہدیہ بھیجی گئی جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيْهَا سُمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ زهرآلود تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو یہودی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوْا لِي یہاں ہوں ان کو اکٹھا کر کے میرے پاس لے آؤ۔