صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 522 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 522

صحيح البخاری جلده ۵۲۲ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة كُنتُ أُجِيْرُهُمْ وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ} إِمَّا کرتے رہنا جس طرح کہ میں کرتا تھا اور تیسری بات أَنْ سَكَتَ عَنْهَا وَإِمَّا أَنْ قَالَهَا فَنَسِيْتُهَا { بھی بہت اچھی ہے ، یا تو سعید خاموش ہو رہے، اس کو بیان نہ کیا یا انہوں نے وہ بات بتائی اور میں وہ بھول گیا۔سفیان نے کہا: یہ جملہ ( وَالثَّالِثَةُ خَيْرٌ) قَالَ سُفْيَانُ هَذَا مِنْ قَوْلِ سُلَيْمَانَ۔سلیمان (آخول) کا قول ہے۔أطرافه: ١١٤، ۳۰٥٣، ٤٤۳۱ ٤٤٣٢، ٥٦٦٩، ٧٣٦٦۔تشریح : ل تھا اور اس کے لئے آپ نے انتہائی کوشش فرمائی اور کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں ہونے دیا اور صحابہ کو بھی فریضہ تبلیغ کی تاکید فرمائی اور اس کی ادائیگی میں نرمی کا پہلو اختیار کرنے کی ہدایت دی۔جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہودیان خیبر اور حضرت ابوموسیٰ اشعری کو قبائل یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے ہدایت دی تھی اور اگر کسی نے سختی سے کام لیا تو اس پر شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا۔آپ کی جنگیں خود حفاظتی کے لئے تھیں اور ان جنگوں میں بھی آپ کی خواہش رہتی کہ کسی طرح خونریزی رک جائے اور صلح کی بار بار تحریک آپ کی طرف سے کی گئی تا امن کی فضا پیدا ہو۔کیونکہ بغیر امن کے تبلیغ محال تھی۔اس لئے آپ نے ہمیشہ کوشش فرمائی کہ لڑائی سے قبل صلح وسلامتی کا پیغام بھیجا جائے۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الجهاد، باب ۱۰۲) اِخْوَاجُ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ : آنحضرت ﷺ کا سب سے بڑا مقصد دعوت اسلام اَخْرِجُوا الْمُشْرِكِيْنَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عام ہے۔اس میں یہودی بھی آجاتے ہیں۔لیکن اس ارشاد کے تحت وہی یہودی آتے ہیں جنہوں نے بار بار جنگ کی اور شکست کھانے پر مشروط طور پر خیبر میں رہنے کی اجازت دی گئی۔باب کا تعلق معاہدہ کی نگہداشت رکھنے سے ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہودی بھی معاہد تھے۔لیکن انہوں نے معاہدہ میں بار بار غداری کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے رویہ سے یقین ہو چکا تھا کہ یہ قوم امن پسند مسلمانوں سے خیانت کئے بغیر نہیں رہے گی۔اس لئے آپ نے ان کے لئے وصیت فرمائی اور آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مطابق معاہدہ انہیں نکالنا پڑا اور وہ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ ان کے لئے اسی بات میں امن ہے کہ وہ اس غلامی سے نکل جائیں اور آج کل ہمارے زمانہ میں بھی یہی ہو رہا ہے کہ ایک قوم کے ساتھ ہمسایہ قوم کی عداوت جب انتہائی شدت اختیار کر لیتی ہے تو مجلس اقوام عالم کو یہی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ ایسی قوم کسی دوسری جگہ آباد کی جائے۔الفاظ أَقِرُكُمْ مَا أَقَرُكُمُ الله۔میں تمہیں اس وقت تک یہاں رہنے دوں گا جب تک اللہ تمہیں رہنے دے۔یعنی جب تک تم حدود آئین کی نگہداشت رکھو گے یہاں رہ سکو گے۔لیکن جب تم امن عامہ میں مخل ہو گے تو اس وقت یہاں سے نکال دیئے جاؤ گے اور کسی اور جگہ آباد کئے جاؤ گے اور تمہیں اس غلامی میں بطور ہمسایہ قوم زندگی بسر کرنے کا حق یہ لفظ عمدۃ القاری کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۹۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔