صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 129
صحيح البخاری جلده ۱۳۹ ۵۵- كتاب الوصايا بَاب ۳۳: إِذَا وَقَفَ أَرْضًا أَوْ بِكْرًا أَوِ اشْتَرَطَ لِنَفْسِهِ مِثْلَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ اگر کوئی زمین یا کنواں وقف کرے اور اپنے لئے یہ شرط کرے کہ مسلمانوں کے ڈول ڈالنے کی طرح اس کا بھی حق ہوگا وَوَقَفَ أَنَسٌ دَارًا فَكَانَ إِذَا قَدِمَ اور حضرت انس نے ایک گھر وقف کیا تو جب وہ (مکہ) نَزَلَهَا۔ وَتَصَدَّقَ الزُّبَيْرُ بِدُوْرِهِ وَقَالَ آتے تو اس میں اُترتے اور حضرت زبیر نے اپنے گھروں کو لِلْمَرْدُوْدَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ صدقہ میں دے دیا تھا اور ان کی بیٹیوں میں سے جس کو مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَرَ بِهَا فَإِنِ اسْتَغْنَتْ طلاق دی جاتی : اس کے متعلق کہتے کہ وہ اس میں رہے مگر خراب نہ کرے اور نہ کوئی اس کو نقصان پہنچے۔ پھر اگر بِزَوْجٍ فَلَيْسَ لَهَا حَقٌّ، وَجَعَلَ ابْنُ عُمَرَ وہ خاوند کی وجہ سے محتاج نہ رہے تو اس کا کوئی حق نہ ہوگا۔ نَصِيبَهُ مِنْ دَارِ عُمَرَ سُكْنَى لِذَوِي اور حضرت ابن عمر نے حضرت عمرؓ کے گھر میں سے اپنے الْحَاجَاتِ مِنْ آلِ عَبْدِ اللَّهِ ۔ حصہ کو حضرت عبد اللہ کے خاندان یعنی اپنے میں سے جو حاجت مند تھے ان کے رہنے کے لئے وقف کر دیا۔ ۲۷۷۸ : وَقَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنِي أَبِي ۲۷۷۸: اور عبدان نے کہا: میرے باپ (عثمان) عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي نے مجھے بتایا۔ انہوں نے شعبہ سے،شعبہ نے ابواسحاق عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ہے ، ابواسحاق نے ابو عبد الرحمن سے روایت کی کہ جب صل الله عروسة ۔ حَيْثُ حُوْصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے ان أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَلَا أَنْشُدُ إِلَّا أَصْحَابَ باغیوں پر بالا خان سے جھانکا اور کہا میں تم کوالہ کی قسم دیتا ہوں اور قسم انہی کو دے رہا ہوں جو نبی ﷺ کے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَسْتُمْ صحابہ ہیں ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ تَعْلَمُوْنَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رومہ کا کنواں کھودا اس وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفَرَ رُوْمَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ کیلئے جنت ہوگی۔ چنانچہ میں نے اس کو کھدوایا۔ کیا فَحَفَرْتُهَا أَلَسْتُمْ تَعْلَمُوْنَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تم نہیں جانتے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ جو جیش عسرت عمدۃ القاری کے مطابق اس جگہ "وَاشْتَرَطَ“ کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جز ء۴ صفحہ اے )