صحیح بخاری (جلد چہارم) — Page 68
صحيح البخاری جلد ۴ ۶۸ ۳۴- كتاب البيوع أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ قَالَ خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ کو میرے پاس آنے کے لئے بلاؤ۔ میں نے (دل میں ) ثَمَنُهُ۔ کہا: اب آپ (میرا) اونٹ مجھے واپس کر دیں گے اور مجھے اس (واپسی ) سے بڑھ کر اور کوئی بات نا پسند تھی۔ فرمایا: اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔ اطرافه ٤٤٣ ، ۱۸۰۱ ، ۲۳۰۹، ۲۳۸۵، ٢۳۹۴، ٢٤٠٦، ٢٤٧٠، ٢٦٠٣، ٢٦٠٤، ،٥٠٨، ٥٢٤٣۰ ،۵۰۷۹ ،۴۰۵۲ ،۳۰۹۰ ،۳۰۸۹ ،۳۰۸۷ ،٢٧١٨، ٢٨٦١، ٢٩٦٧ ٥٢٤٤، ٥٢٤٥، ٥٢٤٦، ٥٢٤٧، ٥٣٦٧، ٦٣٨٧ تشريح : هُلْ يَكُونُ ذَلِكَ قَبْضًا قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ : باب 9 میں عقدی کی صحت کے لئے پانچ شرطیں بیان کی جاچکی ہیں جن میں سے ایک شرط قبضہ حاصل کرنے کی ہے۔ اس تعلق میں فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ آیا الفاظ بعنی اور بعت یعنی میرے پاس بیچو اور میں نے بیچ دیا، بوقت خرید و فروخت زبانی قول و اقرار ضروری ہے یا اس کے لئے قبضہ کی بھی شرط ہے، جس سے بیع تکمیل پاتی ہے۔ بعض فقہاء نے قبضہ ضروری قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک صرف زبانی قول واقرار تکمیل بیچ کے لئے کافی نہیں ۔ (بداية المجتهد، كتاب البيوع، في بيع الطعام قبل قبضه له، الفصل الأول فيما يشترط فيه القبض) حدیث مندرجہ زیر باب کے الفاظ فَدَعُ جَمَلَکَ سے ظاہر ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ اونٹ سے بالفعل دست بردار ہو گئے تھے اور وہ اسی دست برداری سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت میں تھا اور پھر آپ نے قیمت دینے کے بعد وہ اُونٹ بھی اُن کو واپس کر دیا۔ اس روایت سے ظاہر ہے کہ نفس بیچ زبانی قول و اقرار سے طے پاگئی تھی۔ قیمت کی ادائیگی اور قبضہ کی صورت تحمیل عقد سے تعلق رکھتی ۔ رکھتی ہے نہ صحت بیچ سے۔ اس فرق کی طرف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوانِ باب کے دوسرے حصہ میں اشارہ کیا ہے اور یہاں دراصل یہی مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے صحت عقد بیع کا نمونہ پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ بیع و شراء میں سہولت و سماحت جس کا ذکر باب ۶ اروایت نمبر ۲۰۷۶ میں گذر چکا ہے، کیسے ہوتی ہے۔ اب اس باب سے بیع و شراء کی مختلف صورتوں کا بیان شروع ہے۔ دابة کا لفظ کہنے کے بعد اَوْ جَمَلا کا ذکر کیوں کیا گیا ہے جبکہ دآبۃ کا لفظ ہر جانور گدھے، اُونٹ، گائے، بیل، بھیڑ بکری پر اطلاق پاتا ہے۔ علامہ عینی کے نزدیک لفظ جمل سے سواری والے جانوروں کی خرید و فروخت سے متعلق اشارہ کرنا مقصود ہے۔ اگر یہ نہیں تو پھر اس تخصیص کی بظاہر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔ (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۲۱۴) شارحین نے مذکورہ سوال اُٹھا کر خاموشی اختیار کی ہے۔ ابھی بتایا جا چکا ہے کہ باب ۱۹ میں اسلامی بیع و شراء کا جو وصف تمہیدا بیان ہوا ہے، اُسے ان ابواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تجارتی بیع و شراء میں دکھانا مد نظر ہے۔ یعنی اونٹ کی بیع و شراء کے بارے میں زبانی بات چیت ہوئی اور قیمت ٹھہرائی گئی اور اس میں یہ اجازت دی گئی کہ مدینہ تک حضرت جابر رضی اللہ عنہ اسی اونٹ پر سواری کر سکتے ہیں اور آخر قیمت دینے کے بعد وہ اونٹ بھی واپس کیا گیا۔ یہی سلوک